ٹیکس اور کسٹمز ٹیرف اصلاحات کے بڑے پیکیج کا اعلان
- ٹیکس پالیسی اقدامات کا مقصد گھروں اور کاروباری اداروں پر بوجھ کم کرنا ہے
حکومت نے جمعہ کو ٹیکس اور کسٹمز ٹیرف اصلاحات کے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا جس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کو معقول بنا کر زیادہ آمدنی والے تنخواہ دار افراد اور کاروباروں کو ریلیف دیا گیا ہے جبکہ ساتھ ہی دستاویزی معیشت اور ڈیجیٹل کمپلائنس اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
فنانس بل 2026 کے تحت ٹیکس پالیسی اقدامات کا مقصد گھروں اور کاروباری اداروں پر بوجھ کم کرنا ہے جبکہ رئیل اسٹیٹ، آئی ٹی، شپنگ، توانائی اور کارپوریٹ سیکٹر سمیت اہم شعبوں/صنعتوں کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ دستاویزات، ڈیجیٹل کمپلائنس اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جاسکے۔
فنانس بل 2026 کے مطابق انکم ٹیکس سلیبز کو آسان بنایا گیا ہے، سپر ٹیکس کو معقول بنایا گیا ہے، ایکسائز ڈیوٹیز میں کمی کی گئی ہے اور سیلز ٹیکس استثنیٰ کو بڑھا کر میگزینز، شپنگ اور ریفائنریوں تک شامل کیا گیا ہے جبکہ فرضی آمدن اور ٹیمپون ٹیکس جیسے لیویز کو ختم کردیا گیا ہے۔
فنانس بل 2026 کے تحت حکومت نے مقیم پاکستانیوں کے بیرونِ ملک موجود منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کردیا ہے۔
علاوہ ازیں قانون میں وراثت میں ملنے والی غیر منقولہ جائیداد کی لاگت کے تعین اور موت کے بعد خاندانی تصفیوں پر ٹیکس کے اطلاق کے حوالے سے بھی وضاحت کر دی گئی ہے۔
بینک کارڈز کے ذریعے غیر ملکی ادائیگیوں پر ایڈوانس ٹیکس کو 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ای-کامرس لین دین پر کٹوتی شدہ ٹیکس اُن فروخت کنندگان کے لیے ایڈجسٹ ایبل ہوگا جن کا ٹرن اوور 200 ملین روپے سے زیادہ ہے۔
ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ انضمام کے لیے الیکٹرانک وسائل میں کی گئی سرمایہ کاری پر 10 فیصد کے برابر ٹیکس کریڈٹ متعارف کرایا گیا تاکہ دستاویزی نظام اور ڈیجیٹل کمپلائنس کو فروغ دیا جاسکے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی ٹیلی ویژن ڈراموں اور اشتہارات کی ادائیگیوں پر عائد ایڈوانس ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔
چھوٹے تاجروں کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ کی ٹرن اوور حد کو 100 ملین روپے سے بڑھا کر 200 ملین روپے کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
تجویز دی گئی ہے کہ فنڈز اور مقررہ شرائط پوری کرنے والی اہل غیر منافع بخش تنظیموں کو پورے مالی سال کے لیے استثنیٰ سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مخصوص فلاحی اور خیراتی اداروں بشمول پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، شاہین فاؤنڈیشن، بحریہ فاؤنڈیشن، ایس آئی یو ٹی اور دعوتِ ہادیہ کو انکم ٹیکس میں چھوٹ دینے کی توسیع کی گئی ہے۔
فنانس بل 2026 کے تحت حکومت نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کئی رعایتیں متعارف کرائی ہیں جن میں غیر ملکی سفر پر عائد ایف ای ڈی میں کمی اور ایسیٹیٹ ٹو ( کی درآمد پر عائد ایف ای ڈی میں 44,000 روپے سے کم کر کے 10,000 روپے تک کی بڑی کٹوتی شامل ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے معیارات کے مطابق اسپورٹس اور توانائی بخش مشروبات پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے جبکہ آنے والی ایس سی او سربراہی کانفرنس اور انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز سے منسلک اسٹریٹجک گاڑیوں کی درآمد پر استثنیٰ دیا گیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سی کے ڈی کٹس کی درآمد پر حاصل ایک سالہ استثنیٰ کی مدت میں مزید توسیع کر کے اسے 30 جون 2027 تک کردیا گیا ہے۔
بجٹ میں سیلز ٹیکس کے حوالے سے بھی وسیع تر تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں میگزینز کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دینا اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سی کے ڈی کٹس کی درآمد پر ریلیف کی مدت میں 30 جون 2027 تک توسیع شامل ہے۔
پی آئی اے سی ایل کی جانب سے درآمد اور لیز پر لیے جانے والے ہوائی جہاز کے پرزوں پر استثنیٰ کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایس سی او سمٹ اور انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز سے منسلک اسٹریٹجک درآمدات کے ساتھ ساتھ ریفائنریز کو اپ گریڈ اور اوور ہال کرنے کے لیے درکار سرمایہ جاتی سامان پر بھی استثنیٰ متعارف کرایا گیا ہے۔
ساتھ ہی خاندانی منصوبہ بندی کے آلات پر حاصل استثنیٰ ختم کر دیا گیا ہے جبکہ “ٹیمپون ٹیکس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ شپنگ شعبے میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے سیلز ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ سکستھ شیڈول میں ایک نئی انٹری کا اضافہ کیا گیا ہے اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے دی گئی چھوٹ کی تاریخ میں توسیع کر کے اسے 30 جون 2027 تک کر دیا گیا ہے۔
فنانس بل 2026 میں بزنس کلاس کے بین الاقوامی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے جس کے تحت شمالی، وسطی اور جنوبی امریکہ کے ٹکٹوں پر لیوی (ٹیکس) کو 350,000 روپے سے کم کر کے 50,000 روپے کر دیا گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے لیے ٹکٹوں پر ڈیوٹی کی شرح 105,000 روپے سے کم کر کے 25,000 روپے کر دی گئی ہے جبکہ یورپ کے لیے بزنس کلاس کے سفر پر اب 210,000 روپے کے بجائے 40,000 روپے ٹیکس لاگو ہوگا۔ یہی کمی مشرقِ بعید اور آسٹریلیا کے ٹکٹوں پر بھی لاگو ہوتی ہے جہاں ڈیوٹی کو 210,000 روپے سے گھٹا کر 40,000 روپے کر دیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments