BR100 Decreased By (-0.25%)
BR30 Decreased By (-0.55%)
KSE100 Decreased By (-0.41%)
KSE30 Decreased By (-0.46%)
BAFL 57.60 Decreased By ▼ -0.39 (-0.67%)
BIPL 25.30 Decreased By ▼ -0.19 (-0.75%)
BOP 33.25 Decreased By ▼ -0.35 (-1.04%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
DFML 19.13 Increased By ▲ 0.13 (0.68%)
DGKC 191.76 Decreased By ▼ -1.64 (-0.85%)
FABL 89.52 Increased By ▲ 0.73 (0.82%)
FCCL 51.69 Decreased By ▼ -0.49 (-0.94%)
FFL 17.76 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 20.40 Decreased By ▼ -0.10 (-0.49%)
HBL 280.09 Decreased By ▼ -1.46 (-0.52%)
HUBC 212.26 Decreased By ▼ -1.52 (-0.71%)
HUMNL 11.18 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 7.80 Decreased By ▼ -0.08 (-1.02%)
LOTCHEM 28.56 Decreased By ▼ -0.23 (-0.8%)
MLCF 84.85 Decreased By ▼ -0.90 (-1.05%)
OGDC 315.89 Decreased By ▼ -1.36 (-0.43%)
PAEL 39.90 Decreased By ▼ -0.40 (-0.99%)
PIBTL 16.86 Decreased By ▼ -0.19 (-1.11%)
PIOC 265.01 Decreased By ▼ -4.98 (-1.84%)
PPL 222.70 Decreased By ▼ -2.00 (-0.89%)
PRL 34.32 Decreased By ▼ -0.28 (-0.81%)
SNGP 99.25 Decreased By ▼ -0.75 (-0.75%)
SSGC 26.40 Decreased By ▼ -0.16 (-0.6%)
TELE 9.12 Increased By ▲ 0.04 (0.44%)
TPLP 11.22 Decreased By ▼ -0.18 (-1.58%)
TRG 70.70 Decreased By ▼ -0.44 (-0.62%)
UNITY 11.50 Decreased By ▼ -0.10 (-0.86%)
WTL 1.27 No Change ▼ 0.00 (0%)

قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3 ہزار 669 ارب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی ہے، جس میں 838 ارب روپے کی غیر ملکی معاونت بھی شامل ہے، جبکہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیڈرل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ایک ہزار ارب روپے، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2 ہزار 218 ارب روپے اور سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے لیے 451 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔

کونسل نے مالی سال 2025-26 کے نظرثانی شدہ اقتصادی اشاریوں کی بھی منظوری دی، جس کے تحت وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے 820 ارب روپے، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2 ہزار 938 ارب روپے اور ایس او ایز کے لیے 355 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ اس سال کے لیے شرح نمو کا ہدف 3.7 فیصد مقرر کیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور عوامی اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ سالانہ منصوبہ 2026-27 کے اہداف کے حصول کے لیے وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ قریبی تعاون کو یقینی بنائیں۔

این ای سی نے اپریل 2025 سے مارچ 2026 تک سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) اور ایگزیکٹو کمیٹی آف این ای سی (ایکنک) کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا۔ اس عرصے میں سی ڈی ڈبلیو پی نے 316 ارب روپے مالیت کے 116 منصوبوں جبکہ ایکنک نے 5 ہزار 117 ارب روپے لاگت کے 72 منصوبوں کی منظوری دی۔

ذرائع کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی حصے سے وفاقی بچت کی مد میں تقریباً 800 ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں بڑے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی جس میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے منصوبوں کی نگرانی اور جانچ کے لیے ایک پائلٹ پروگرام شامل ہے۔

اڑان پاکستان اقدام کے تحت 11 قومی اقتصادی ترقیاتی مشنز کی منظوری دی گئی، جبکہ وزارت منصوبہ بندی کو متعلقہ وزارتوں اور صوبوں کے تعاون سے ان مشنز کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

بعد ازاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ آئندہ این ای سی کے اجلاس ہر تین ماہ بعد منعقد ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے لیے 749 ارب روپے، سندھ کے لیے 706 ارب روپے، خیبر پختونخوا کے لیے 455 ارب روپے اور بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام منظور کیے گئے ہیں۔

وفاقی ترقیاتی ترجیحات میں بنیادی ڈھانچے، توانائی، آبی وسائل، تعلیم، صحت، آئی ٹی، ٹرانسپورٹ، رہائش، پائیدار ترقیاتی اہداف، ضم شدہ اضلاع اور صنعتی ترقی کے منصوبے شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اتفاق رائے سے فیصلوں کی منظوری کو وفاقی یکجہتی اور پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد میں مشترکہ فیصلے ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف