پاکستانی بجٹ ایران جنگ اور آئی ایم ایف دباؤ سے متاثر، مڈل کلاس پر مزید بوجھ متوقع
- وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب 17.1 ٹریلین روپے کا بجٹ پیش کریں گے
رائٹرز کے مطابق حکومت پاکستان جمعہ کو ایسا بجٹ پیش کرے گی جس میں محصولات بڑھانے اور اخراجات کم کرنے کے لیے مڈل کلاس اور رجسٹرڈ کاروباری شعبے پر بوجھ ڈالا جائے گا جبکہ ملک کے غریب ترین طبقے کو تحفظ دینے کی کوشش کی جائے گی۔
ملکی میڈیا کی وسیع تر رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط کو پورا کرنے کے دباؤ کے تحت وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اگلے مہینے سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے 17.1 ٹریلین روپے (61 ارب ڈالر) کا بجٹ پیش کریں گے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیائی ملک پاکستان میں ایندھن، بجلی اور ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا زیادہ تر اثر رجسٹرڈ کاروباری اداروں اور تنخواہ دار طبقے پر پڑے گا کیونکہ زراعت، ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ جیسے سیاسی طور پر بااثر شعبوں پر ٹیکس عائد کرنا اب بھی مشکل ہے۔
ایران جنگ کے معاشی نقصانات
لکسن انویسٹمنٹس کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر مصطفیٰ پاشا نے کہا ہے کہ حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں کیونکہ وہ ایک بار پھر معاشی ترقی پر مالیاتی استحکام کو ترجیح دے گی۔
مصطفیٰ پاشا نے کہا کہ اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے حکومت کو نان فائلرز، زراعت اور تاجروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی۔ تاہم ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے صرف اس کو مزید گہرا کرنے کے لیے درکار سیاسی عزم موجود نہیں ہے۔
وزارتِ خزانہ نے بجٹ کے اعدادوشمار یا مالیاتی ترجیحات پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
پالیسی سازوں کو نہ صرف آئی ایم ایف کے حالیہ بیل آؤٹ پیکیج کی شرائط کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بڑے اثرات سے بھی نمٹنا ہے، یہ ایک ایسا تنازع ہے جس میں اسلام آباد نے ثالثی کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اچانک اضافے نے پاکستان کی مہنگائی کو ایک بار پھر دہرے ہندسوں میں پہنچا دیا ہے اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔
ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے پرنسپل اکانومسٹ احمد مبین نے کہا کہ خلیجی ممالک سے توانائی کی درآمدات، وہاں سے آنے والی ترسیلاتِ زر اور خطے کی مالیاتی امداد پر انحصار کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازع سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ایشیا بحرالکاہل (ایشیان پیسیفک) خطے کی بڑی معیشتوں میں پاکستان کو ہے۔
حکومت کا ہدف مالی سال 27-2026 کے لیے 4.1 فیصد معاشی ترقی (اقتصادی نمو) حاصل کرنا ہے جو رواں سال کے متوقع 3.7 فیصد اور آئی ایم ایف کی 3.5 فیصد کی پیشگوئی سے زیادہ ہے جبکہ پورے سال کے لیے مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا جا رہا ہے جو مئی میں رپورٹ ہونے والی 11.7 فیصد مہنگائی سے نمایاں طور پر کم ہے۔
تاہم مئی میں کاروباری اعتماد اس وقت اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا جب سے ایس اینڈ پی نے گزشتہ سال اپنی مینوفیکچرنگ سروے شروع کیا تھا۔ اسی دوران پیداواری لاگت 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ روزگار میں مسلسل دوسرے مہینے کمی ریکارڈ کی گئی۔ مرکزی بینک نے اپریل میں شرحِ سود میں ایک فیصد پوائنٹ کا اضافہ کیا، جو تقریباً تین سال میں پہلی بار کیا گیا اضافہ تھا۔
پاکستان کی حکومت فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اگلے سال کے ٹیکس جمع کرنے کے ہدف کو رواں سال کے ہدف سے 37 فیصد زیادہ تک بڑھائے جبکہ ادارہ رواں سال کا اپنا ہدف پورا کرنے میں بھی ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
معیشت کا بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر
وسیع پیمانے پر پھیلی غیر دستاویزی معیشت پاکستان کے سرمائے کا ایک بڑا حصہ ایف بی آر کی پہنچ سے دور رکھتی ہے: گزشتہ سال صرف 1.3 فیصد پاکستانیوں نے ٹیکس کے قابل آمدنی ظاہر کرتے ہوئے گوشوارے جمع کرائے اور صرف 7.7 فیصد بالغ افراد کے پاس ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ موجود ہے۔
ٹیکس فائلرز کی تعداد میں تو اضافہ ہوا لیکن آمدنی (ریونیو) اس رفتار سے نہیں بڑھی۔
عالمی معیار کے مطابق کارپوریٹ ٹیکس کی شرح پہلے ہی بہت زیادہ ہیں جبکہ انکم ٹیکس (آمدنی پر ٹیکس) میں مزید اضافہ عوام کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر کچل دے گا جو پہلے ہی دو سال کی شدید مہنگائی کے اثرات سے سنبھلنے کی کوشش کررہی ہے۔
سسٹینیبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد سلیری نے کہا کہ زراعت، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل پر ٹیکس لگائے بغیر مالیاتی خسارہ (فسکل ڈیفیسٹ) تو شاید کم ہو جائے لیکن شہریوں اور ریاست کے درمیان اعتماد کا فقدان (ٹرسٹ ڈیفیسٹ) مزید گہرا ہو جائے گا۔
لندن اسکول آف اکنامکس کے پبلک اکنامکس ریسرچر مظہر وسیم نے کہا کہ باقی ماندہ رقم نئے ٹیکس اقدامات یا قوانین کے سخت نفاذ کے ذریعے حاصل کرنی ہوگی۔ یہ عام طور پر وہ شعبے ہیں جہاں ایف بی آر مار کھا جاتا ہے ۔
اقتصادی ترقی پر ہونے والے اخراجات شدید دباؤ کا شکار ہیں: وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ دفاعی اور داخلی پالیسیوں کے علاوہ اگلے سال کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔
تاہم امید ہے کہ بجٹ میں غریب ترین شہریوں کو نقدی کی منتقلی فراہم کر کے ان کا تحفظ کیا جائے گا۔
حکومت نے بجٹ پیش کرنے میں ایک ہفتے کی تاخیر کی کوئی وجہ نہیں بتائی، تاہم ایک ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ کچھ مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں وفاقی اخراجات کے لیے صوبوں کی طرف سے دستبردار کیے جانے والے فنڈز کا معاملہ بھی شامل ہے۔
آئی ایم ایف نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ پاکستان آنے والے مالی سال کے لیے قرضوں کی ادائیگیوں کو نکال کر، 2 فیصد کا بجٹ سرپلس حاصل کرنے کے ہدف پر متفق ہو گیا ہے۔





















Comments