پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی دنیا کی بڑی مارکیٹوں سے بہتر، مارکیٹ کیپٹلائزیشن 59.23 ارب ڈالر تک جاپہنچا
- جولائی تا مارچ 100 انڈیکس میں 125,627 سے 148,743 پوائنٹس تک 18.4 فیصد کی نمایاں نمو ریکارڈ
جمعرات کو جاری ہونے والے اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے بینچ مارک 100 انڈیکس نے دنیا کے بڑے اسٹاک مارکیٹ انڈیکسز کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 31 مارچ 2026 تک اس کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن 59.23 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔
اس کارکردگی کو میکرو اکنامک ماحول میں بہتری، آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت کامیاب جائزوں، سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور دوطرفہ و کثیر الجہتی شراکت داروں کی جانب سے ان فلو کی مدد حاصل ہے۔
پاکستان اقتصادی سروے 26-2025 کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے 9 ماہ کے دوران پاکستان کی کیپٹل مارکیٹوں بالخصوص اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی حوصلہ افزا رہی۔ رواں مالی سال جولائی تا مارچ میکرو اکنامک اشاریوں، سازگار بیرونی کھاتے، مہنگائی میں کمی اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر سرمایہ کاروں کے نئے اعتماد کی بدولت 100 انڈیکس میں مسلسل مضبوطی دیکھی گئی۔
اس عرصے کے دوران پی ایس ایکس کے 100 انڈیکس نے 125,627 سے 148,743 پوائنٹس تک 18.4 فیصد کی نمایاں نمو ریکارڈ کی۔ زیرِ جائزہ مدت کے دوران انڈیکس 23 جنوری 2026 کو اپنی بلند ترین سطح 189,167 پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ سب سے کم سطح یکم جولائی 2025 کو 128,199 پوائنٹس پر دیکھی گئی۔
تاہم فروری 2026 کے آغاز کے قریب یہ تیزی مدہم پڑ گئی کیونکہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ساتھ خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، فارن سیلنگ، ملکی سطح پرپرافٹ ٹیکنگ اور رمضان کے دوران کاروباری سرگرمیوں میں موسمی سست روی جیسے عوامل سامنے آئے۔
31 مارچ 2026 تک پی ایس ایکس کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن 8.5 فیصد بڑھ کر 16,534 ارب روپے (59.23 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گیا جبکہ 30 جون 2025 کو یہ 15,237 ارب روپے (53.00 ارب امریکی ڈالر) تھا۔
رواں مالی سال جولائی تا مارچ یومیہ اوسط کاروباری حجم بڑھ کر 1206 ملین (1 ارب 20 کروڑ 60 لاکھ) حصص تک پہنچ گیا جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 834 ملین حصص تھا۔ 31 مارچ 2026 تک لسٹڈ (رجسٹرڈ) کمپنیوں کی تعداد 536 تھی جس کا کل لسٹڈ سرمایہ 1,626 ارب روپے اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن 16,534 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
دوسری طرف جون 2025 کے اختتام سے مارچ 2026 کے آخر تک ایشیا کی بڑی مارکیٹوں کی کارکردگی ملی جلی رہی۔ کورین کمپوزٹ اسٹاک پرائس انڈیکس 64.5 فیصد کے زبردست اضافے کے ساتھ سرمایہ کاروں کے لیے سب سے پرکشش مارکیٹ رہا جس کے بعد تھائی لینڈ کا سیٹ انڈیکس (32.9 فیصد)، ویتنام کا وی این30 انڈیکس (23.8 فیصد)، سنگاپور کا ایف ٹی ایس ای اسٹریٹس ٹائمز (23.2 فیصد)، پاکستان کا 100 انڈیکس (18.4 فیصد) اور ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹ انڈیکس (13.8 فیصد) رہے۔ تاہم بھارت کے بی ایس ای سینسیکس 30 اور فلپائن کے پی ایس ای آئی کمپوزٹ انڈیکس میں گراوٹ دیکھی گئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026























Comments