بجٹ میں برآمد کنندگان کو ریلیف نہ ملا تو پاکستان عالمی مارکیٹ کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا، ٹیکسٹائل کونسل
- عالمی خریدار متبادل مارکیٹیں تلاش کر رہے ہیں، پاکستان کے پاس فائدہ اٹھانے کا بہترین موقع ہے، فواد انور، وزیراعظم کو خط
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر مالیاتی سال 2026-27 کے وفاقي بجٹ میں برآمد کنندگان کو فوری ریلیف نہ دیا گیا تو پاکستان اپنی برآمدات بڑھانے اور سپلائی چین منتقل کرنے والے عالمی خریداروں کو راغب کرنے کا ایک بڑا موقع گنوا سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کو لکھے گئے ایک خط میں پی ٹی سی کے چیئرمین فواد انور نے کہا کہ بین الاقوامی خریدار روایتی مینوفیکچرنگ مراکز سے ہٹ کر اب اپنے ذرائع میں تنوع لا رہے ہیں اور ایشیا بھر میں متبادل مقامات تلاش کر رہے ہیں، جو پاکستان کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔
کونسل کے مطابق پاکستان کے پاس کپاس سے لے کر تیار ملبوسات (گارمنٹس) تک کی ایک مکمل ویلیو چین، تجربہ کار برآمدی شعبہ اور بین الاقوامی برانڈز کے ساتھ دیرینہ تعلقات موجود ہیں لیکن پیداواری لاگت میں اضافہ اور پالیسیوں کے تضادات ملکی مسابقت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
پی ٹی سی نے اشارہ کیا کہ عالمی طلب میں بہتری کے باوجود مالیاتی سال 2025-26 کے پہلے 11 مہینوں کے دوران پاکستان کی تجارتی برآمدات گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.66 ارب ڈالر کم رہیں۔ فواد انور نے خط میں کہا کہ عالمی خریدار متبادل تلاش کر رہے ہیں اور پاکستان ان کی نظروں میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے یا خود کو مارکیٹ کی دوڑ سے باہر کر دیں گے۔
ٹیکسٹائل باڈی نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے کے لیے حکومتی کوششوں کا اعتراف کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ صرف معاشی استحکام روزگار کے مواقع، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمدنی یا سرمایہ کاری پیدا نہیں کرے گا۔ فواد انور نے کہا کہ استحکام ترقی نہیں ہے۔ پاکستان کی معیشت کا اگلا باب برآمدات کے ذریعے ہی لکھا جانا چاہیے۔ ادائیگیوں کے بار بار پیدا ہونے والے بحران سے نکلنے والی ہر کامیاب معیشت نے برآمدات کو بڑھا کر ایسا کیا، نہ کہ اپنے برآمدی شعبے پر ٹیکس بڑھا کر۔
کونسل نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) کو دوبارہ متعارف کراکے مسابقتی ٹیکس فریم ورک کو بحال کرے، صنعتی توانائی کے نرخوں کو علاقائی حریفوں کے برابر لائے اور زیر التوا برآمدی ریفنڈز اور روکے گئے ٹیکسوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنا کر آئندہ بجٹ کو برآمدات دوست بنائے۔
پی ٹی سی کے مطابق برآمد کنندگان کو ایشیا میں توانائی کی سب سے زیادہ لاگت کا سامنا ہے، جبکہ اربوں روپے واجب الادا ریفنڈز کی شکل میں پھنسے ہوئے ہیں، جس سے ان کی سرمایہ کاری کرنے اور کاروباری سرگرمیاں پھیلانے کی صلاحیت محدود ہو رہی ہے۔
کونسل نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے اور یہ ان چند شعبوں میں سے ایک ہے جو تیزی سے برآمدات میں اضافہ، بڑے پیمانے پر روزگار کی فراہمی اور پائیدار غیر ملکی زرِ مبادلہ کمانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فواد انور نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس موقع کا ایک محدود لیکن حقیقی وقت موجود ہے۔ اگر اس بجٹ میں صحیح فیصلے کیے گئے تو برآمدات ملکی ترقی کا انجن بن سکتی ہیں، بصورتِ دیگر حریف ممالک اس کاروبار پر قبضہ کر لیں گے جو پاکستان آ سکتا تھا۔
پی ٹی سی کا کہنا تھا کہ وہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کی عالمی سطح پر مسابقت کو بڑھانے اور برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی کی حمایت کے لیے عملی اور ڈیٹا پر مبنی اصلاحات پر حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
























Comments