ایران کا نئی امریکی تجاویز کا جائزہ لینے کا اعلان، ٹرمپ نے مزید انتظار کا عندیہ دیدیا
- ایران کے مطابق پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے
ایران نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ وہ امریکا کی تازہ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ تہران سے صحیح جواب حاصل کرنے کے لیے چند دن انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو دوبارہ حملوں کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔
ایران کی سرکاری خبر ایجنسی نور نیوز کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہمیں امریکا کی تجاویز موصول ہو گئی ہیں اور ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایران کے مطابق پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکراتی عمل میں بطور ثالث کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان نے امن مذاکرات کی میزبانی بھی کی تھی، جبکہ پاکستان کے وزیر داخلہ بدھ کے روز تہران کے دورے پر تھے۔
چھ ہفتے قبل نافذ ہونے والی نازک جنگ بندی کے باوجود تنازع کے خاتمے کے مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت اور افراطِ زر کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر مطلوبہ جواب نہ ملا تو کارروائی تیزی سے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ حملے کیے گئے تو خطے میں جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔
ایران نے حال ہی میں امریکا کو اپنی نئی تجویز بھی پیش کی ہے، جس میں جوہری پروگرام پر کنٹرول، پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور امریکی افواج کے انخلا جیسے مطالبات شامل ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے، جہاں سے عالمی تیل اور ایل این جی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران نے اس راستے پر کنٹرولڈ میری ٹائم زون کا نقشہ جاری کیا ہے اور اجازت کے نظام کی بات کی ہے، جسے امریکا نے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

























Comments