حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لے گی، وفاقی وزیر
- مشرقِ وسطیٰ میں تازہ کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں ڈیزل مہنگا ہوگیا، اوگرا روزانہ قیمتوں کے تعین کی تفصیلات بھی جاری کرے گا، علی پرویز ملک
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ جمعہ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی، جس کے باعث عالمی توانائی رسد کے استحکام سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں، افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے وسیع تر اصلاحات کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو عالمی منڈی کے رجحانات کی بنیاد پر روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ قیمتوں کے نظام کو مزید شفاف اور ڈی ریگولیٹ کیا جا سکے۔
علی پرویز ملک کے مطابق وفاقی کابینہ کے فیصلے کے تحت اوگرا نہ صرف روزانہ قیمتوں کا اعلان کرے گا بلکہ ان کے تعین کی بنیاد بننے والے حساب کتاب اور مارکیٹ عوامل بھی عوام کے سامنے لائے گا۔
انہوں نے کہا، ”اوگرا صرف قیمتوں کا اعلان ہی نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی بتائے گا کہ ان قیمتوں کا تعین کن عوامل کی بنیاد پر کیا گیا، تاکہ عوام کو قیمتوں میں ردوبدل کی وجوہات کا علم ہو۔“
وفاقی وزیر نے تسلیم کیا کہ نیا نظام بعض اوقات صارفین پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے، تاہم ان کے بقول زیادہ شفافیت سے عوام یہ بہتر طور پر سمجھ سکیں گے کہ قیمتوں میں تبدیلی کیوں ضروری ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت وزیراعظم شہباز شریف کے اس وعدے پر قائم ہے کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کی صورت میں اس کا پورا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ ماضی میں عالمی قیمتوں میں کمی کے دوران پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ڈیزل کی قیمت تقریباً 520 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 300 روپے فی لیٹر کے قریب آ گئی تھی، جبکہ پٹرول بھی مختلف ادوار میں 70 سے 80 روپے فی لیٹر تک سستا کیا گیا۔
ایندھن پر عائد ٹیکسوں سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی اور کاربن سپورٹ لیوی کی شرح اب بھی نسبتاً کم ہے، جبکہ حکومت شفافیت بڑھانے اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بتدریج کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے نظام کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں گزشتہ سات دن کی اوسط قیمتوں کی بنیاد پر کیا جائے گا، تاکہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں خودکار طریقے سے مقامی قیمتوں میں شامل ہو جائیں اور اس کے لیے کسی وزیر کی منظوری درکار نہ ہو۔
انہوں نے کہا، ”یہ ڈی ریگولیشن کی جانب ایک اور قدم ہے، تاکہ قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے مطابق خودکار انداز میں ہو اور اس میں نہ میری، نہ وزیر اطلاعات اور نہ ہی کسی اور کی مداخلت ہو۔“
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے ان کی سربراہی میں قائم کمیٹی پٹرولیم قیمتوں کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے اب تک چار اجلاس کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ 15 سے 20 دن کے اندر حکومت جنگ کے بعد کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے توانائی کی قیمتوں اور توانائی کے تحفظ سے متعلق ایک جامع اور طویل المدتی فریم ورک کو حتمی شکل دے گی۔
علی پرویز ملک نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ پاکستان اب بھی درآمدی توانائی پر انحصار کیوں کر رہا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ ملک کی مقامی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


























Comments