مربوط رابطہ کاری کا عمل جاری
- اگر تہران شرکت کی تصدیق کرتا ہے تو آئندہ چند دنوں میں اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان ہے
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان بیک چینل رابطوں میں میزبان کے کردار سے آگے بڑھتے ہوئے ایک فعال ثالث کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان منظم رابطے پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں، اور اگر تہران شرکت کی تصدیق کرتا ہے تو آئندہ چند دنوں میں اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان ہے۔
سیکورٹی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ امریکی تکنیکی اور لاجسٹک ٹیمیں پہلے ہی موجود ہیں جبکہ ایران ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد محدود اور کنٹرولڈ چینلز کے ذریعے رابطے کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مرحلے کا بنیادی مقصد کوئی جامع معاہدہ نہیں بلکہ کشیدگی میں کمی اور صورتحال کو قابو میں رکھنا ہے، خاص طور پر حساس سمندری راستوں کے حوالے سے جہاں معمولی غلطی بھی بڑے تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔
عسکری ذرائع کے مطابق ثالثی ایک منظم اور مرحلہ وار حکمت عملی کے تحت کی جا رہی ہے۔ فوری ترجیحات میں قابلِ عمل وقفہ قائم کرنا، خلیجی خطے میں سیکیورٹی خدشات کو کم کرنا، اور ایسے قابلِ تصدیق اقدامات طے کرنا شامل ہے جن پر دونوں فریق بتدریج عمل کر سکیں۔
واشنگٹن زیادہ واضح وعدوں اور نگرانی کے نظام کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف حالیہ سمندری صورتحال سے مشروط ہے۔
ان خلا کے باوجود حکام کے مطابق دونوں فریق اب غیر رسمی بیانات کے بجائے ایک منظم فریم ورک کے تحت رابطے میں ہیں، جو ابتدائی رابطوں سے آگے بڑھ کر ایک عملی مرحلے کی طرف پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔
سیکورٹی ذرائع نے آئندہ 48 گھنٹوں کو انتہائی اہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کی جانب سے باضابطہ تصدیق اسلام آباد میں دوسرے دور کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔ اگرچہ فوری پیش رفت نہ بھی ہو، پھر بھی حکام اس عمل کو اسٹریٹجک طور پر اہم قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ براہ راست تصادم کے خطرے کو کم کر رہا ہے اور پاکستان کے کردار کو خطے میں استحکام کے ایک اہم ذریعے کے طور پر مضبوط بنا رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments