انرجی سیکیورٹی ملک کے مستقبل کی منصوبہ بندی کا بنیادی ستون ہے، وزیراعظم
- حکومت کے بروقت بچت اقدامات نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ممکنہ بحران کو ٹال دیا ہے، شہباز شریف
وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا ہے کہ توانائی کی سلامتی ملک کے مستقبل کی منصوبہ بندی کا بنیادی ستون ہے، اور حکومت کے بروقت بچت اقدامات نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ممکنہ بحران کو ٹال دیا ہے۔
توانائی سلامتی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت ملک کی طویل المدتی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسٹریٹجک خام تیل کے ذخائر برقرار رکھنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو الیکٹرک وہیکلز کی طرف بتدریج منتقل ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ تمام سرکاری بسوں اور موٹرسائیکلوں کی خریداری صرف الیکٹرک گاڑیوں کی صورت میں کی جائے اور ملک بھر میں چارجنگ انفرااسٹرکچر کو تیزی سے وسعت دی جائے۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) روزانہ کی بنیاد پر ملک کی توانائی صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پیٹرولیم کے ذخائر تسلی بخش ہیں جبکہ غذائی تحفظ بھی مستحکم ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ ملک میں تیل اور گیس کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے، جس میں مقامی توانائی کمپنیوں کی مسلسل کوششیں شامل ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گرڈ لیول بیٹری اسٹوریج کے دو پائلٹ منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں جبکہ سولر صارفین کو اضافی توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے بیٹری سسٹمز لگانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ حکومت مقامی سطح پر اعلیٰ معیار کی اسٹوریج بیٹریوں کی تیاری کو بھی فروغ دے رہی ہے۔
اجلاس میں متعدد وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وزیرِاعظم نے کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت کے اقدامات کا اعلان کیا تھا، جن میں چار روزہ ورک ویک، مارکیٹوں کی جلد بندش، فیول الاؤنس میں کمی اور سرکاری اخراجات میں 20 فیصد کٹوتی شامل ہے۔ یہ اقدامات مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی تیل سپلائی چین میں خلل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کیے گئے تھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments