زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتا دباؤ، بیرونی مالی معاونت کے نئے ذرائع پر غور
- پاکستان متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کے فیصلے کے بعد بڑھتے ہوئے مالی دبائو سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے
زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے دباؤ نے پاکستان کو بیرونی مالی معاونت کے نئے ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جن میں اہم اتحادی ممالک چین اور سعودی عرب سے ممکنہ تعاون بھی شامل ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کے فیصلے کے بعد بڑھتے ہوئے مالی دبائو سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے۔
سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا۔ تاہم وزیرِ مملکت برائے خزانہ اور وفاقی وزیرِ خزانہ کے مشیر سے بارہا رابطے کے باوجود کوئی مؤقف موصول نہیں ہو سکا۔
حکام کے مطابق پانڈا بانڈز کے اجرا میں تاخیر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے ایک نازک وقت میں مالیاتی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے اہم مرحلے پر ہوئی ہے جب حکومت رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو 3.45 ارب ڈالر کی ادائیگی کے انتظامات کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ حکام کے مطابق 450 ملین ڈالر اسی ہفتے ادا کیے جائیں گے، جبکہ باقی 3 ارب ڈالر دو اقساط میں ادا ہوں گے، جن میں 2 ارب ڈالر 17 اپریل اور 1 ارب ڈالر 23 اپریل کو ادا کیے جائیں گے۔
یہ قرضے، جن میں سے کچھ 1990 کی دہائی کے اواخر کے ہیں اور بعد میں رول اوور کیے گئے، تقریباً 6.5 فیصد شرح سود کے حامل تھے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 27 مارچ 2026 تک ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 21.789 ارب ڈالر تھے، جن میں سے 16.381 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس جبکہ 5.407 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود تھے۔
بھاری ادائیگیوں کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بیرونی پوزیشن قابلِ انتظام ہے۔ مرکزی بینک کے پاس 16.4 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، جو فوری واجبات، بشمول 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی، کے لیے سہارا فراہم کرتے ہیں، تاہم مجموعی صورتحال اب بھی چیلنجنگ ہے۔
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے دسمبر 2025 میں جاری اپنی رپورٹ میں، جو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے دوسرے جائزے کے بعد شائع ہوئی، پاکستان کی مجموعی بیرونی مالی ضروریات کا تخمینہ مالی سال 2025-26 کے لیے 19.398 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 4.6 فیصد) جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 19.123 ارب ڈالر لگایا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پروگرام مکمل طور پر فنانسڈ ہے اور آئندہ 12 ماہ کے لیے مضبوط یقین دہانیاں موجود ہیں، جبکہ پروگرام کے بقیہ عرصے کے لیے بھی مثبت امکانات ہیں۔ مزید برآں، سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ اور چائنا ایکزم بینک سمیت دیگر ذرائع سے مالی وسائل کے حصول میں پیش رفت ہوئی ہے۔ بڑے بین الاقوامی مالیاتی ادارے اب مالی سال 2026 میں مزید فنڈنگ فراہم کرنے کی توقع رکھتے ہیں، جس سے سیلاب کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ کمرشل فنانسنگ کے امکانات بھی بہتر ہوئے ہیں۔ اہم دوطرفہ شراکت دار پروگرام کے باقی عرصے میں قلیل مدتی واجبات کے رول اوور کے لیے پرعزم ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments