سونم وانگچک کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے لیے اہلیہ کا عدالت سے رجوع
- سونم وانگچک کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے، اہلیہ گیتانجلی آنگمو
سماجی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو نے اتوار کو بھارتی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے انہیں سرکاری اسپتال سے نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سونم وانگچک کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔
گیتانجلی آنگمو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ بار بار درخواستوں کے باوجود اسپتال انتظامیہ نہ تو انہیں ڈسچارج کررہی ہے اور نہ ہی ہماری پسند کے کسی نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب سکیورٹی اہلکاروں نے سونم وانگچک کی خواہش کے برخلاف انہیں سرکاری اسپتال منتقل کردیا تھا۔
اسپتال نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ سونم وانگچک کے وائٹل پیرامیٹرز مستحکم ہیں، تاہم ان کے خون کے بعض اشاریے معمولی حد تک متاثر ہیں جس کے باعث انہیں مسلسل طبی نگہداشت اور چوبیس گھنٹے نگرانی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب اسپتال اور اس کے ڈائریکٹر کے دفتر سے رابطے کی متعدد کوششوں کے باوجود کسی نے فون کال کا جواب نہیں دیا۔
59 سالہ سونم وانگچک 28 جون سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ وہ بھارتی نوجوانوں کی قائم کردہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یہ احتجاج کر رہے ہیں جو مئی میں لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کررہی ہے۔
یہ احتجاجی مہم وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک غیر معمولی عوامی چیلنج بن کر سامنے آئی ہے اور اسے بھارت بھر سے حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔
وانگچوک نے جمعہ کو سرکاری ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ وہ اسپتال منتقل نہیں ہونا چاہتے۔ اسپتال حکام کا کہنا تھا کہ ہفتے کو وہ علاج کروانے سے انکار کر رہے تھے۔
گیتانجلی آنگمو نے اتوار کو کہا کہ مارے فلور پر تقریباً 30 پولیس اہلکار اور پورے اسپتال میں 100 سے زائد اہلکار تعینات ہیں جس کی وجہ سے ہماری نقل و حرکت شدید محدود ہے۔
دہلی پولیس نے تبصرہ کے لیے کی گئی فون کال اور ای میل کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
جمعرات کے روز دہلی ہائی کورٹ نے حکام سے کہا تھا کہ وہ وانگچوک کی صحت پر گہری نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کریں، یہ ہدایت ایک ایسی درخواست کے جواب میں دی گئی تھی جس میں حکام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ صحت خراب ہونے پر انہیں زبردستی کھانا کھلایا جائے۔
























Comments