BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
پاکستان

حکومت سولرائزیشن کی مکمل حمایت کرتی ہے مگر منصفانہ انداز میں، اویس لغاری

  • قطر انرجی کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے بعد ایل این جی کی فراہمی میں غیر معمولی خلل پیدا ہوا ہے، وزیر توانائی
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ یہ تاثر مکمل طور پر غلط ہے کہ حکومت سولرائزیشن کے خلاف ہے۔ حکومت سولر توانائی کی بھرپور حمایت کرتی ہے، تاہم یہ عمل اس انداز میں ہونا چاہیے کہ تمام صارفین کے ساتھ انصاف ہو اور غیر سولر صارفین پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سولر توانائی دن کے اوقات میں فوسل فیول سے پیدا ہونے والی بجلی کی کمی کو کسی حد تک پورا کرتی ہے، تاہم رات کے وقت بجلی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے قابل اعتماد اور فوری طور پر فراہم کی جانے والی بجلی کے ذرائع ناگزیر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق بغیر مناسب انتظام کے بڑی تعداد میں گھریلو سولر سسٹمز بجلی کے گرڈ کے استحکام کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر شام کے وقت جب سورج غروب ہونے کے بعد بجلی کی طلب تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری امریکا، اسرائیل اور ایران کے تنازع کے باعث قطر انرجی کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے بعد ایل این جی کی فراہمی میں غیر معمولی خلل پیدا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں بجلی کی طلب کے انتظام کے اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں کھاد کے شعبے کو محدود پیمانے پر توانائی کی فراہمی میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم غذائی تحفظ کے باعث اس شعبے کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمرشل یا نسبتاً زیادہ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے اگر کوئی پابندیاں عائد کی گئیں تو وہ ہدفی اور عارضی نوعیت کی ہوں گی اور ان کا مقصد صرف بجلی کے نظام کو مستحکم رکھنا ہوگا۔

سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ بجلی کی پیداوار کو مکمل طور پر کوئلے پر منتقل کرنے اور گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس بند کرنے کی تجاویز عملی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ان کے مطابق مقامی کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس پہلے ہی کم لاگت کے باعث ترجیحی بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں، تاہم گیس سے چلنے والے پلانٹس بجلی کے نظام میں لچک پیدا کرنے اور طلب میں اچانک اضافے کو پورا کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی شعبے کے لیے کیپٹو پاور پر گیس مہنگی ہونے کے باوجود صنعتوں کا گرڈ سے انخلا نہیں ہوا۔ حکومت کے اضافی بجلی پیکج کے تحت تقریباً 23 روپے فی یونٹ کے نرخ پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے جس سے صنعتوں کو نظام سے منسلک رہنے میں مدد ملی ہے۔ جنوری 2026 میں بجلی کی طلب میں سالانہ بنیاد پر 12.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ فروری میں بھی تقریباً 11 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ پہلے دو ماہ کے دوران صنعتی صارفین نے اس پیکج کے تحت تقریباً 12 ارب روپے کی بچت کی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی توانائی بحران کے دوران پاکستان متوازن حکمت عملی کے ساتھ صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اور متنوع مقامی ذرائع پر مشتمل بجلی کے نظام کی بدولت ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باوجود بجلی کی فراہمی کو بڑی حد تک متاثر ہونے سے بچایا گیا ہے۔ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری اداروں کی نجکاری اور بجلی کے نیٹ ورک تک تیسرے فریق کی رسائی جیسے اقدامات پر بھی تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ توانائی کا نظام مزید مستحکم اور مؤثر بنایا جا سکے۔

Comments

Comments are closed.