تیل کے ذخائر کی آگ سے اٹھنے والے دھوئیں نے تہران کو اندھیرے میں ڈبو دیا
- ایندھن کے ڈپوؤں پر حملے،9 روزہ جنگ میں پہلی بار ایرانی آئل انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا
اتوار کی صبح تہران کے شہری ایک ہولناک منظر دیکھ کر جاگے جہاں اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے تیل کے ذخائر سے اٹھنے والے سیاہ دھوئیں نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
دھوئیں کی اس دبیز چادر نے سورج کی روشنی کو مکمل طور پر بلاک کر دیا، جس کے باعث دن کے اجالے میں بھی رات کا سماں رہا اور شہریوں کو لائٹس آن کرنا پڑیں۔
نو روزہ جنگ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی آئل انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے تہران اور اس کے گردونواح میں چار آئل ڈپوؤں اور ایک لاجسٹک سائٹ پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔
مقامی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں کم از کم 6 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے۔ فضائی آلودگی اور زہریلی گیسوں کے باعث شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ شہر میں ایندھن کی تقسیم کا نظام عارضی طور پر معطل ہونے کے بعد ہر گاڑی کے لیے 20 لیٹر کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اب تک تقریباً ایک لاکھ افراد دارالحکومت چھوڑ چکے ہیں۔
























Comments
Comments are closed.