دہرے بحرانوں میں گھرے امریکی مندوبین کے مذاکرات، کامیابی کی امیدوں پر سوالیہ نشان
- جنیوا میں انتہائی مہارت سے ترتیب دی گئی سفارتی پیش رفت کا آغاز ایران سے ہوا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے پسندیدہ مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو جنیوا میں ایک ہی دن ایران کے جوہری تعطل اور یوکرین جنگ جیسے دو پیچیدہ محاذوں پر تعینات کیے جانے پر ماہرین حیران ہوگئے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس شٹل ڈپلومیسی سے ان مندوبین پر بوجھ بڑھ گیا ہے اور دونوں بحرانوں کے حل کے حقیقی امکانات پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔
ٹرمپ جو اپنے دوسرے دورِ اقتدار کے پہلے ہی سال میں متعدد تنازعات ختم کرنے کے دعوے دار ہیں، بظاہر نوبل امن انعام کے حصول کے لیے مزید بین الاقوامی معاہدوں کی تلاش میں ہیں۔
جنیوا میں اس سفارتی مشق کا آغاز ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات سے ہوا، جس کی ثالثی عمان نے کی۔ ساڑھے تین گھنٹے کی گفتگو کے بعد اگرچہ کچھ پیش رفت کا اشارہ ملا لیکن کسی فوری معاہدے کی توقع نظر نہیں آتی۔
ٹرمپ ایک طرف سفارتی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں تو دوسری طرف ایران کے گرد فوجی گھیراؤ بھی سخت کر رہے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خدشہ برقرار ہے۔
مبصرین کے مطابق ٹرمپ پیچیدہ سفارت کاری کے بجائے ٹھوس نتائج کے بغیر ”تعداد“ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

























Comments