بجلی نرخ بڑھنے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ، صنعتی شعبے کو ریلیف ملے گا، ماہرین
- آئندہ 12 ماہ کے دوران مہنگائی میں 1.1 فیصد پوائنٹس تک اضافہ ہوسکتا ہے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی قیمتوں کی نئی تجاویز سے جہاں مہنگائی میں اضافہ ہوگا وہیں آئی ایم ایف کے ایما پر سبسڈیز میں کی جانے والی کٹوتیوں کا بوجھ متوسط طبقے پر منتقل ہو گا جبکہ صنعتوں کو نسبتاً ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
اپٹیمس کیپٹل مینجمنٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت وہ نظام ختم کیا جا رہا ہے جس میں کاروباری ادارے گھریلو صارفین کے توانائی بلوں پر سبسڈی کا بوجھ برداشت کرتے تھے اور اس کے نتیجے میں آئندہ 12 ماہ کے دوران مہنگائی میں 1.1 فیصد پوائنٹس تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ جسے نافذ العمل ہونے کے لیے صرف باضابطہ منظوری کی ضرورت ہے، صنعتی قیمتوں میں 13 سے 15 فیصد تک کمی لائے گا اور 102 ارب روپے (365 ملین ڈالر) کی سبسڈیز کا خاتمہ کردے گا۔
تجزیہ کاروں کے تخمینے کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ متوسط طبقے کے گھرانوں کو بجلی کے لیے تقریباً 50 فیصد زائد رقم ادا کرنی ہوگی۔
مہنگائی کا پس منظر
پاکستان نے 2023 میں ایشیا میں مہنگائی کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک کا سامنا کیا جو تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات روپے کی قدر میں کمی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور آئی ایم ایف کے حمایت یافتہ اصلاحات کے تحت کیے گئے نرخوں میں اضافے تھے۔
اگرچہ مہنگائی کی شرح اب کم ہو کر 5.8 فیصد رہ گئی ہے تاہم تجزیہ کار خبردار کررہے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیاں دوبارہ افراطِ زر کے دباؤ میں اضافہ کرسکتی ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ توانائی اور آئی ایم ایف نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
کنسلٹنسی فرم رینیوایبلز فرسٹ میں انرجی فنانس پروگرام کے سربراہ احتشام احمد کا کہنا ہے کہ چونکہ اوسط گھریلو صارف کی قوتِ خرید میں پہلے ہی نمایاں کمی آچکی ہے، اس لیے یہ تبدیلی مہنگائی کے ان مجموعی اثرات میں مزید اضافے کا باعث بنے گی جو ہم 2022 کے بعد سے مسلسل تجربہ کررہے ہیں۔
قیمتوں کے اس بڑے پیمانے پر نظرثانی کے اقدام سے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے اندر پائے جانے والے تناؤ کی نشاندہی ہوتی ہے، جس کے تحت 2023 سے مشکلات کا شکار سرکاری بجلی کمپنیوں کو سہارا دینے کے لیے یوٹیلٹی نرخوں میں نمایاں اضافے لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
صنعتی گروپوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی بلند قیمتیں ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں برآمدی مسابقت کو ختم کر رہی ہیں۔
کراچی میں قائم انرجی کنسلٹنسی ارزاچل کے مطابق ماہانہ 100 سے 300 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین جو کہ بل ادا کرنے والے رہائشی صارفین کی اکثریت ہے کو قیمتوں کے اس نئے ڈھانچے کے تحت نئے فکسڈ چارجز کی وجہ سے نرخوں میں 76 فیصد تک اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پیر کو بتایا کہ 1 سے 100 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے سب سے کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے فکسڈ چارجز صفر سے بڑھ کر 400 روپے ہو جائیں گے۔
سولر پینلز کی قیمتیں سوالیہ نشان بن گئیں
ریگولیٹر نے گرڈ کو بجلی فراہم کرنے والے چھتوں پر لگے سولر سسٹمز کے صارفین کو دی جانے والی شرح میں بھی کمی کر دی ہے، اس طرح اس نظام کا خاتمہ کردیا گیا جس میں پہلے فراہم کردہ اور خریدی گئی بجلی کی قدر برابر تصور کی جاتی تھی۔
سولر انسٹالیشنز میں ریکارڈ اضافہ نے کچھ گھرانوں کے لیے بل کم کیے اور اخراجات گھٹائے، لیکن قرض میں ڈوبی یوٹیلٹی کمپنیوں کی آمدنی پر دباؤ ڈالا کیونکہ گرڈ بجلی کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو نیپرا کی جانب سے سولر پالیسی میں کی جانے والی تبدیلیوں پر نظرثانی کا حکم دیتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ وہ 4 لاکھ 66 ہزار سولر صارفین کے اخراجات کا بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ گرڈ صارفین پر منتقل ہونے سے روکیں۔






















Comments