فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی: کابینہ نے موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر فریم ورک کی منظوری دے دی
- ایم وی این او فریم ورک کا مقصد اسپیکٹرم کی ضروریات کی رہنمائی کرنا اور جی نیلامی کے دوران بہتر فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کرنا ہے
وفاقی کابینہ نے طویل عرصے سے زیرِ التوا موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر(ایم وی این او) فریم ورک کی منظوری دے دی ہے جس سے حکومت کو فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کو زیادہ موثر اور ٹارگٹڈ بنانے میں مدد ملے گی۔
سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ یہ منظوری وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی سرکولیشن کے ذریعے دی گئی۔
متوقع ہے کہ وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ جمعہ کو اس نئے فریم ورک کے حوالے سے میڈیا بریفنگ کریں گی۔
ایم وی این او ایک ایسا آپریٹر ہے جس کے پاس اپنی کوئی فریکوئنسی (اسپیکٹرم) نہیں ہوتی، اس کے بجائے موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کے ساتھ تجارتی معاہدے کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے صارفین کو موبائل کمیونیکیشن سروسز اور نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز فراہم کر سکیں۔
یہ فریم ورک ایم وی این او کو ٹیلی کمیونیکیشن پالیسی 2015 کی شق 9.11.1 اور ’موبائل نیٹ ورک آپریٹرز اور موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز سے متعلق پالیسی گائیڈ لائنز‘ کی روشنی میں پاکستان بھر میں خدمات فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
ایم وی این او فریم ورک کا مقصد اسپیکٹرم کی ضروریات کی رہنمائی کرنا اور جی نیلامی کے دوران بہتر فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے گزشتہ سال اس کا مسودہ (ڈرافٹ) مکمل کرکے منظوری کے لیے وزارت کو بھیج دیا تھا۔ اس منصوبے کا محور سرمایہ کاری میں اضافہ اور چھوٹے پلیئرز کو ٹیلی کام مارکیٹ میں داخل ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
اس فریم ورک میں 15 سالہ ایم وی این او لائسنس کی تفصیلات دی گئی ہیں اور قومی سطح پر پیشگی فیس 140,000 ڈالر مقرر کی گئی ہے جو پاکستانی روپے میں ادا کی جائے گی۔ ایم وی ایم اوز موجودہ آپریٹرز کے نیٹ ورکس استعمال کریں گے لیکن اپنے برانڈز چلا سکتے ہیں اور حسب ضرورت خدمات فراہم کرسکتے ہیں۔
کمپنیاں اپنے بنیادی موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کے ساتھ مشترکہ آمدنی کی بنیاد پر سالانہ ریگولیٹری واجبات بھی ادا کریں گی، جن میں یو ایس ایف اور آر اینڈ ڈی فیس شامل ہے۔ آپریٹرز کے درمیان ہونے والے اخراجات منہا کیے جا سکتے ہیں لیکن ایم این او کو واپس بل کیے گئے کسی بھی چارجز کو بطور اخراجات کلیم نہیں کیا جا سکے گا۔
لائسنس 15 سال کے لیے قابلِ اعتبار ہے اور اسے دوبارہ تجدید کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی ایم وی این او اپنے میزبان آپریٹر کے ساتھ معاہدہ ختم کر دے اور نیا معاہدہ نہ کرے، تو لائسنس معطل کر دیا جائے گا جب تک کہ پی ٹی اے کے ساتھ نیا معاہدہ دائر نہ کیا جائے۔
یہ فریم ورک ایم وی این او کے مختلف ماڈلز کی حمایت کرتا ہے، جن میں بنیادی ’ری سیلر سیٹ اپ‘ سے لے کر ’فل ایم وی این او‘ تک شامل ہیں جن کا اپنا کور نیٹ ورک ہوتا ہے۔ موبائل نیٹ ورک آپریٹرز اور ایم وی این اوز کے درمیان ہونے والے تمام معاہدوں کے لیے پی ٹی اے کی منظوری لازمی ہوگی۔
ایم وی این اوز کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ سروس کے معیار کو برقرار رکھیں، ہیلپ لائن چلائیں اور ہر اس شہر میں جہاں ان کی سروس فعال ہو، کم از کم ایک کسٹمر کیئر سینٹر قائم کریں۔ اس کے علاوہ، ان کے لیے قومی سلامتی کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنا بھی ضروری ہوگا، جن میں قانونی مداخلت اور سم مینجمنٹ پروٹوکولز شامل ہیں۔
ایم وی این او پالیسی پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں نئے پلیئرز کو لا سکتی ہے اور آنے والی 5G نیلامی کی رفتار کو مزید تیز کر سکتی ہے۔






















Comments