اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی کی منظوری دے دی، فائیو جی کی راہ ہموار
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے منگل کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے اہم سفارشات کی منظوری دے دی، جس کے ساتھ ہی ملک میں پہلی بار فائیو جی (5G) سروسز کے تجارتی آغاز کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
یہ منظوری اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کی تجاویز پر مبنی ہے، جس کی سربراہی بھی وزیرِ خزانہ نے کی تھی۔ یہ تجاویز اسٹیک ہولڈرز بشمول صارفین، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ مشاورت اور اسپیکٹرم کی قیمتوں، ادائیگی کی شرائط اور نیلامی کے ڈیزائن سے متعلق عالمی و علاقائی معیارات کے جائزے کے بعد تیار کی گئی ہیں۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم ڈیجیٹل پاکستان کے سفر پر گامزن ہیں اور اس سفر میں تیزی لا رہے ہیں، اسپیکٹرم کی نیلامی اس مقصد کے حصول کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
وفاقی وزیرآئی ٹی شزہ فاطمہ نے وزیرِ خزانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ای سی سی کا فیصلہ ایک اہم پالیسی رکاوٹ کو دور کرتا ہے اور اب یہ تجاویز حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے رکھی جائیں گی۔
کابینہ کی منظوری کے بعد پی ٹی اے ایک انفارمیشن میمورنڈم جاری کرے گا، جس کے تحت ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ رسمی مشاورت اور مذاکرات کا عمل شروع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ یہ نیلامی جنوری کے آخر یا فروری کے پہلے ہفتے تک مکمل کر لی جائے۔
اس منصوبے کے تحت تقریباً 600 میگا ہرٹز (ایم ایچ زیڈ) اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا، جو اس وقت استعمال میں موجود 274 میگا ہرٹز کے علاوہ ہے اور یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی ہوگی۔
1800 میگا ہرٹز اور 2300 میگا ہرٹز بینڈز کو چھوڑ کر دیگر تمام فریکوئنسی بینڈز پہلی بار ملک میں نیلامی کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
دریں اثنا محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ سفارشات پاکستان فرسٹ (پاکستان پہلے) کی پالیسی کے تحت تیار کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسپیکٹرم کی قیمتوں اور ادائیگی کے ڈھانچے کو انتہائی احتیاط کے ساتھ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ مالیاتی مفادات اور ٹیلی کام سیکٹر کی نیٹ ورک میں توسیع کے لیے سرمایہ کاری کرنے کی سکت کے درمیان توازن برقرار رہے۔
اسی دوران شزہ فاطمہ نے اعتراف کیا کہ محدود اسپیکٹرم دستیابی ملک میں انٹرنیٹ کے خراب معیار کی ایک بڑی وجہ ہے اور بتایا کہ تقریباً 240 ملین افراد اس وقت صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر کام کررہے ہیں، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اضافی اسپیکٹرم سے نیٹ ورک کے رش میں کمی آئے گی، تھری جی اور فار جی خدمات بہتر ہوں گی اور پاکستان میں پہلی بار فائیو جی متعارف کرانے کی سہولت میسر آئے گی۔ پی ٹی اے جیتنے والے بولی دہندگان پر یہ ذمہ داری عائد کرے گا کہ وہ چار سے چھ ماہ کے اندر نیٹ ورک کی تنصیب مکمل کریں۔
وفاقی وزیرآئی ٹی نے کہا کہ یہ نیلامی حکومت کے وسیع تر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایجنڈے کے تحت، یعنی ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ اور کنیکٹ 2030 منصوبے کے مطابق ہے جس کا ہدف آئندہ 5 سال میں اوسطاً 100 ایم بی پی ایس انٹرنیٹ رفتار حاصل کرنا اور تین سال کے اندر پاکستان کی بین الاقوامی کنیکٹیویٹی رینکنگ میں بہتری لانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے فائبر انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے رائٹ آف وے چارجز ختم کر دیے ہیں اور اس وقت ملک کا صرف پانچ فیصد سے کم حصہ فائبرائزڈ ہے۔






















Comments