BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Decreased By (-0.07%)
KSE100 Increased By (0.17%)
KSE30 Increased By (0.16%)
BAFL 57.01 Increased By ▲ 0.14 (0.25%)
BIPL 24.99 Increased By ▲ 0.03 (0.12%)
BOP 30.44 Increased By ▲ 0.09 (0.3%)
CNERGY 13.16 Increased By ▲ 0.04 (0.3%)
DFML 16.70 Increased By ▲ 0.80 (5.03%)
DGKC 192.90 Increased By ▲ 0.45 (0.23%)
FABL 94.14 No Change ▼ 0.00 (0%)
FCCL 52.94 Increased By ▲ 0.15 (0.28%)
FFL 14.80 Increased By ▲ 0.08 (0.54%)
GGL 19.16 Decreased By ▼ -0.40 (-2.04%)
HBL 307.40 Increased By ▲ 1.30 (0.42%)
HUBC 201.95 Increased By ▲ 0.53 (0.26%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.60 Increased By ▲ 0.14 (0.53%)
MLCF 93.58 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
OGDC 315.65 Decreased By ▼ -1.08 (-0.34%)
PAEL 35.63 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIBTL 14.95 Increased By ▲ 0.27 (1.84%)
PIOC 243.68 Increased By ▲ 0.47 (0.19%)
PPL 225.50 Decreased By ▼ -1.41 (-0.62%)
PRL 93.44 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
SNGP 91.95 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
SSGC 23.89 Increased By ▲ 0.08 (0.34%)
TELE 7.87 Increased By ▲ 0.07 (0.9%)
TPLP 12.90 Decreased By ▼ -0.07 (-0.54%)
TRG 56.99 Increased By ▲ 0.43 (0.76%)
UNITY 8.08 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان، 100 انڈیکس میں 1.2 فیصد کا اضافہ

  • کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 178,200.02 پوائنٹس پر بند ہوا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کا رجحان برقرار رہا کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نیا حملہ مؤخر کیے جانے کے بعد امن کی نئی امیدیں پیدا ہوئیں۔ پیر کو 100 انڈیکس 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، سیشن کے ابتدائی چند منٹوں میں ہی انڈیکس تیزی سے بڑھتے ہوئے 178,985.94 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

تاہم ابتدائی تیزی کے بعد منافع کے حصول کے لیے حصص کی فروخت شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس نے اپنے اضافے کا بڑا حصہ کھو دیا۔ بعد ازاں مارکیٹ میں استحکام آیا اور دوپہر سے قبل کے اوقات میں کاروبار محدود اتار چڑھاؤ کے ساتھ جاری رہا جبکہ انڈیکس 178,200 سے 178,500 پوائنٹس کی حد میں گردش کرتا رہا۔

دوپہر کے بعد فروخت کا دباؤ بڑھ گیا جس کے باعث انڈیکس بتدریج گر کر 177,759.88 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کم ترین سطح پر آ گیا، تاہم یہ کمی عارضی ثابت ہوئی اور کاروبار کے اختتامی مرحلے میں مضبوط خریداری کے باعث بینچ مارک انڈیکس نے اپنی کھوئی ہوئی قدر کا بیشتر حصہ دوبارہ حاصل کر لیا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 2,105.91 پوائنٹس یا 1.20 فیصد اضافے سے 178,200.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔

امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات کی دوبارہ بحالی کے امکانات سے پیدا ہونے والی امید کے باعث خریدار (بلز) نے تجارتی سیشن پر مکمل گرفت قائم رکھی، جس سے مقامی اسٹاک مارکیٹ نے شاندار واپسی (کم بیک) کی۔ علاقائی و سیاسی کشیدگی میں کمی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا اور اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر خریداری کا رجحان پیدا کیا۔ بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام کے بعد جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس تیزی نے سرمایہ کاروں میں رسک لینے کی صلاحیت کی بحالی کو ظاہر کیا، کیونکہ انہوں نے علاقائی کشیدگی میں کمی اور توانائی کی قیمتوں میں نرمی کے اشاروں کا خیرمقدم کیا۔ ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق انڈیکس میں اپنا کردار ادا کرنے کے لحاظ سے ایف ایف سی، ایم ای بی ایل، لک، پی پی ایل اور اینگرو ایچ نمایاں رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس میں تقریباً 699 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست بحالی ہوئی اور مارکیٹ مسلسل تین ہفتوں کی گراوٹ کا سلسلہ توڑنے میں کامیاب رہی۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری پیدا کی۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً 9 فیصد کمی کے بعد 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آنے سے سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی صلاحیت مزید بڑھی جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس نے ایک ہفتے کے دوران 5,000 سے زائد پوائنٹس کی ریکوری کی۔

ہفتہ وار مارکیٹ رپورٹ کے مطابق بینچ مارک 100 انڈیکس 5,072.93 پوائنٹس اضافے سے 176,094.13 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدیں بڑھنے کے باعث پیر کو تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جب کہ اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ دوسری جانب امریکی اور جاپانی حکام کی جانب سے کمزور ین کو سہارا دینے کے لیے مشترکہ مداخلت کی تصدیق کے بعد ین کی قدر میں اچانک تیزی آگئی۔

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 6 فیصد سے زائد گر کر 82.41 ڈالر فی بیرل ہوگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پیر کو ہوں گے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے ایران پر فوری حملہ مؤخر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تہران کی جوہری صلاحیتوں سے متعلق تعطل ختم کرنے کے لیے معاہدے کی کوشش کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.4 فیصد جبکہ نیس ڈیک کے فیوچرز میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا، تاہم جاپان کا نکیئی انڈیکس ایک فیصد اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 3.6 فیصد گر گیا۔ جولائی کے دوران کوسپی میں 22 فیصد کی شدید کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس بھی ابتدائی کاروبار میں ایک فیصد نیچے آگیا۔

ادھر بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی روپے نے بھی معمولی بہتری کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.01 فیصد قدر حاصل کی۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 3 پیسے اضافے کے بعد 277.77 روپے پر بند ہوئی۔دریں اثنا آل شیئر انڈیکس میں حصص کے کاروباری حجم میں کمی ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سیشن کے 880.95 ملین حصص کے مقابلے میں 785.36 ملین حصص رہا۔تاہم حصص کی مجموعی مالیت 24.96 ارب روپے سے بڑھ کر 33.14 ارب روپے ہو گئی۔ٹریڈنگ کے دوران ٹرسٹ بروکریج 113.32 ملین حصص کے ساتھ حجم کے اعتبار سے سرفہرست رہی، جبکہ ٹی پی ایل پراپرٹیز 83.71 ملین اور سینرجیکو پی کے 68.96 ملین حصص کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔پیر کو مجموعی طور پر 493 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 305 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 152 میں کمی، جبکہ 36 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

Comments

200 حروف