پاکستان کے سب سے بڑے نجی ایل پی جی پروڈیوسر نے 5 سال 6 ماہ بعد پہلی شپمنٹ روانہ کردی
- پلانٹ کا دوبارہ شروع ہونا کمپنی اور ملک کی ایل پی جی سپلائی چین کے لیے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے
پاکستان کے نجی شعبے میں ایل پی جی (لیکوئیفائیڈ پٹرولیم گیس) کی سب سے بڑی پیداواری کمپنی جامشورو جوائنٹ وینچرز لمیٹڈ (جے جے وی ایل) نے ساڑھے پانچ سال سے زائد عرصے کے بعد اپنے آپریشنز دوبارہ شروع کر دیے اور جمعرات کو ایل پی جی کی پہلی کھیپ روانہ کی۔
ایل ایس ای کیپٹل لمیٹڈ نے یہ پیشرفت جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ نوٹس میں ظاہر کی۔
نوٹس کے مطابق جے جے وی ایل جو ایل ایس ای کیپیٹل لمیٹڈ کی سرمایہ کاری شدہ کمپنی ہے نے پلانٹ کے 5 سال 6 ماہ بعد دوبارہ شروع ہونے کے بعد اپنا پہلا ایل پی جی لوڈ شپ کیا۔
یہ طویل انتظار کے بعد پلانٹ کا دوبارہ فعال ہونا کمپنی اور ملک کی ایل پی جی سپلائی چین کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جارہا ہے۔
جامشورو جوائنٹ وینچرز لمیٹڈ پاکستان کے قوانین کے تحت قائم ایک غیر فہرست شدہ پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے، جس کا ہیڈکوارٹر لاہور میں اور گیس پروسیسنگ کی سہولیات جامشورو، سندھ میں واقع ہیں۔ اس کا جدید 200 ایم ایم ایس سی ایف ڈی ایل پی جی ایکسٹریکشن پلانٹ مارچ 2005 میں کمیشن کیا گیا جبکہ 125 ایم ایم ایس سی ایف ڈی پلانٹ اکتوبر 2014 میں فعال ہوا۔
جے جے وی ایل پاکستان میں ایل پی جی پیدا کرنے والی پہلی کمپنی تھی جس نے پیٹنٹ شدہ اورٹلوف ٹیکنالوجی درآمد کی اور اسے استعمال کیا، جو ملک میں سب سے زیادہ پروپین ریکوری کی ضمانت دیتی ہے اور اسے دنیا کے سب سے مؤثر پلانٹس میں شامل کرتی ہے۔
یہ گیس پروسیسنگ پلانٹس ہیوسٹن کی ایکسٹران کمپنی کے ذریعے انجنیئر، خرید، تعمیر اور کمیشن کیے گئے جو نیو یارک اسٹاک ایکسچینج میں درج ہے۔ ایکسٹران پلانٹس کو بھی چلاتا اور برقرار رکھتا ہے۔























Comments
Comments are closed.