BR100 Increased By (0.11%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Increased By (0.12%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.45 (-0.79%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.29 (1.08%)
BOP 34.10 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
CNERGY 9.92 Decreased By ▼ -0.69 (-6.5%)
DFML 18.16 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
DGKC 207.00 Decreased By ▼ -2.90 (-1.38%)
FABL 100.18 Increased By ▲ 1.23 (1.24%)
FCCL 54.61 Increased By ▲ 0.87 (1.62%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 24.87 Increased By ▲ 1.05 (4.41%)
HBL 301.99 Decreased By ▼ -0.43 (-0.14%)
HUBC 219.15 Increased By ▲ 0.21 (0.1%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.35 Decreased By ▼ -0.30 (-1.01%)
MLCF 94.35 Decreased By ▼ -2.01 (-2.09%)
OGDC 316.40 Decreased By ▼ -1.82 (-0.57%)
PAEL 43.15 Increased By ▲ 1.38 (3.3%)
PIBTL 16.72 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 296.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
PPL 220.50 Increased By ▲ 0.33 (0.15%)
PRL 49.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
SNGP 104.94 Decreased By ▼ -1.19 (-1.12%)
SSGC 28.17 Decreased By ▼ -0.97 (-3.33%)
TELE 8.80 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.89 (7.11%)
TRG 60.30 Increased By ▲ 0.08 (0.13%)
UNITY 10.44 Increased By ▲ 0.42 (4.19%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
دنیا

تاجک افغان سرحدی جھڑپ میں 3 چینی شہری ہلاک

  • ملک کے جنوبی علاقے میں ایک چینی کمپنی کے کارکنوں پر ڈرون حملہ کیا گیا، تاجک وزارت خارجہ
شائع اپ ڈیٹ

تاجک حکام کا کہنا ہے کہ تاجکستان میں سرحد کے قریب افغانستان سے کیے گئے حملے میں 3 چینی مزدور ہلاک ہو گئے۔

تاجکستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

تاجک وزارت خارجہ کے مطابق ملک کے جنوبی علاقے میں ایک چینی کمپنی کے کارکنوں پر ڈرون اور فائرنگ کا حملہ کیا گیا۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ”فائرنگ اور دستی بم سے لیس ڈرون کے ذریعے کیے گئے حملے میں تین چینی شہری کارکن ہلاک ہو گئے۔“

دوشنبے عام طور پر ایسے واقعات پر باضابطہ طور پر تبصرہ نہیں کرتا اور اس نے یہ نہیں بتایا کہ حملہ کس نے کیا ہے۔

جہادی گروپوں کے شدت پسند پہاڑی سرحدی علاقے میں سرگرم ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 1,350 کلومیٹر (840 میل) پھیلا ہوا ہے۔

مسلم اکثریتی تاجکستان، جو سابقہ سوویت یونین کے سب سے غریب ممالک میں سے ایک ہے، طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد 2021 سے انتہا پسندی کے ممکنہ طور پر بڑھنے کے بارے میں فکرمند ہے۔

صدر امام علی رحمان، جو 1992 سے اقتدار میں ہیں، طالبان پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں اور اس گروپ سے کہا ہے کہ وہ تاجک نسل کے حقوق کا احترام کرے، جو افغانستان کی 40 ملین آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔

دوسری جانب تاجکستان نے کچھ شعبوں میں محتاط انداز میں تعلقات قائم رکھے ہیں، جن میں سفارتی ملاقاتیں، سرحدی شہروں میں بازار کھولنا اور بجلی کی فراہمی شامل ہیں۔

تاجکستان کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ”ہمسایہ ملک (افغانستان) میں موجود جرائم پیشہ گروہ سرحدی علاقوں میں صورتحال کو غیر مستحکم کرنے کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔“

متعدد چینی کمپنیاں تاجکستان میں کام کر رہی ہیں، خاص طور پر کان کنی اور قدرتی وسائل کے شعبوں میں، جو اکثر پہاڑی سرحدی علاقوں میں واقع ہیں۔

گزشتہ سال بھی افغان سرحد کے قریب اسی طرح کے حملے میں ایک چینی کارکن ہلاک ہوا تھا۔

Comments

Comments are closed.