عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجہ عراق کے خودمختار کردستان خطے سے ترکیہ کے ذریعے تیل کی برآمدات کا دوبارہ آغاز اور آئندہ ماہ اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں مزید اضافہ کرنے کا منصوبہ ہے۔
برینٹ کروڈ کے نرخ 34 سینٹ یا 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 69.79 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 43 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے بعد 65.29 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ یہ کمی جمعے کے روز ریکارڈ کی گئی جولائی کے بعد کی بلند ترین سطح سے واپس آنے کے بعد سامنے آئی۔
عراق کی وزارت تیل کے مطابق ہفتے کے روز اڑھائی سال بعد پہلی مرتبہ شمالی عراق کے کردستان خطے سے ترکیہ کی جیہان بندرگاہ تک پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی ترسیل بحال ہوئی۔ اس پیش رفت سے روزانہ تقریباً 180,000 سے 190,000 بیرل خام تیل عالمی منڈی میں شامل ہوگا، جسے وقت کے ساتھ بڑھا کر 230,000 بیرل یومیہ تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ بغداد حکومت، کردستان ریجنل گورنمنٹ اور غیر ملکی کمپنیوں کے درمیان ہوا، جس پر امریکا نے بھی زور دیا تھا۔
دوسری جانب اوپیک پلس کی جانب سے اتوار کو ہونے والے اجلاس میں کم از کم 137,000 بیرل یومیہ اضافی پیداوار کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے، حالانکہ تنظیم اپنی ہدفی پیداوار سے تقریباً 500,000 بیرل یومیہ کم پمپ کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قلیل مدتی سپلائی دباؤ کے باوجود جغرافیائی سیاسی خطرات، خصوصاً روس اور ایران سے متعلق کشیدگی، قیمتوں کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔ یوکرین کی ڈرون کارروائیوں کے باعث روس کی توانائی برآمدات متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی میں 4 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی دوران ایران کے جوہری پروگرام پر یورپی طاقتوں کے دباؤ کے بعد اقوام متحدہ نے اس پر اسلحہ پابندی سمیت دیگر پابندیاں بھی بحال کر دی ہیں، جس پر تہران نے سخت ردعمل دینے کا عندیہ دیا ہے۔

























Comments
Comments are closed.