فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واضح کیا ہے کہ اثاثوں کی اصل مارکیٹ ویلیو کے اعلان کے حوالے سے انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2025 میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم نہیں کی گئی ہے۔
ایف بی آر نے جمعرات کو جاری کردہ وضاحت میں کہا کہ سوشل میڈیا پر نئی انکم ٹیکس ریٹرنز 2025 کے حوالے سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، جسے فوری طور پر درست کیا جانا ضروری ہے۔
ایف بی آر کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن فارم سات جولائی 2025 کو ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تھا، جس کے صفحہ 66 پر اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو درج کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ اس کا مقصد اُن ٹیکس دہندگان کی اس غلط فہمی کو ختم کرنا ہے جو اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو کے خانے میں زیرو درج کرتے تھے۔
تاہم ایف بی آر نے واضح کیا کہ اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو کا اعلان مکمل طور پر ٹیکس دہندگان کی مرضی پر منحصر ہے اور یہ معلومات ٹیکس کے حساب کتاب کے لیے استعمال نہیں کی جائیں گی۔ صاحب ثروت افراد کو پہلے سے ہی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 7 ای کے تحت اپنی جائیداد کی تفصیل دینا ضروری ہے۔
ایف بی آر نے کہا کہ اگر کسی ٹیکس دہندہ سے اثاثوں کی ویلیو میں غلطی ہو جائے تو اس کے خلاف کوئی نوٹس جاری نہیں کیا جائے گا۔ ایف بی آر کو یقین ہے کہ ٹیکس دہندگان اپنی جائیداد کی قیمت قریب تر اصل مارکیٹ ویلیو کے مطابق ظاہر کریں گے۔
مزید برآں جو ٹیکس دہندگان پہلے ہی ریٹرنز جمع کرا چکے ہیں، انہیں اپنی انکم ٹیکس ریٹرنز میں کوئی ترمیم یا دوبارہ جمع کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ایف بی آر نے واضح کیا کہ اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو کو نہ ٹیکس کی وصولی کے عمل میں شامل کیا جائے گا اور نہ ہی دولت کے بیان کی مالیاتی تصدیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ایف بی آر نے دعویٰ کیا کہ انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کے لیے استعمال ہونے والا آئی آر آئی ایس سسٹم بہتر انداز میں کام کر رہا ہے۔ ٹیکس دہندگان کو یاد دہانی کراتے ہوئے درخواست کی گئی وہ جلد اپنے ٹیکس ریٹرنز جمع کرائیں جس کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2025 ہے۔






















Comments
Comments are closed.