پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) نے ڈینجرس پیٹرولیم لائسنس (ڈی پی ایل) حاصل کرنے کی آخری تاریخ میں 23 اکتوبر 2025 تک کی توسیع کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے توانائی پیٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک، ڈی جی ایکسپلوزیو عبدل علی خان اور ڈائریکٹر محمد آفتاب قاضی سے اظہار تشکر کیا ہے۔
ایک بیان میں چیئرمین پی سی ڈی ایم اے سلیم ولی محمد نے کہا کہ وزارت کی جانب سے بروقت مداخلت قابل ستائش ہے تاہم ڈی پی ایل قوانین کا بنیادی مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔ توسیع تکنیکی طور پر صرف 42 دن کی مہلت ہے جبکہ صنعتی درآمدی سائیکل اوسطاً 60 سے 90 دن کا ہوتا ہے جو خام مال کی تیاری، شپمنٹ اور درآمد کے مراحل پر مشتمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن کیمیکلز خام مال کو ڈی پی ایل کلاس بی اور سی میں شامل کیا گیا ہے وہ نہ تو ہائیڈرو کاربن ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا ایندھن۔ یہ خالص صنعتی آرگینک کمپاؤنڈز ہیں جو ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، پلاسٹک، کھاد، چمڑا اور کاسمیٹکس جیسے اہم شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اشیاء کو پیٹرولیم ایکٹ کے تحت لانا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ اس سے صنعتی پیداوار، برآمدات اور ملک کے زرمبادلہ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے حکومت سے ڈی پی ایل قوانین پر نظرثانی اور غیر پیٹرولیم صنعتی خام مال کو اس سے مستثنیٰ قرار د دینے کا مطالبہ کیا تاکہ ملکی صنعت کسی بڑے بحران سے محفوظ رہ سکے۔سلیم ولی محمد نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ غلط درجہ بندی برقرار رہی تو صنعتی سپلائی چین متاثر ہوگی، برآمدی مسابقت کمزور پڑے گی اور معیشت کو طویل المدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.