BR100 Increased By (1.2%)
BR30 Increased By (1.12%)
KSE100 Increased By (0.74%)
KSE30 Increased By (0.73%)
BAFL 57.80 Increased By ▲ 0.60 (1.05%)
BIPL 27.28 Increased By ▲ 0.39 (1.45%)
BOP 34.38 Increased By ▲ 0.69 (2.05%)
CNERGY 10.90 Increased By ▲ 0.29 (2.73%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.35 (1.94%)
DGKC 210.82 Increased By ▲ 0.92 (0.44%)
FABL 101.00 Increased By ▲ 2.05 (2.07%)
FCCL 54.95 Increased By ▲ 1.21 (2.25%)
FFL 16.79 Increased By ▲ 0.33 (2%)
GGL 25.10 Increased By ▲ 1.28 (5.37%)
HBL 304.99 Increased By ▲ 2.57 (0.85%)
HUBC 221.99 Increased By ▲ 3.05 (1.39%)
HUMNL 10.57 Increased By ▲ 0.03 (0.28%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.95 Increased By ▲ 0.30 (1.01%)
MLCF 96.65 Increased By ▲ 0.29 (0.3%)
OGDC 319.71 Increased By ▲ 1.49 (0.47%)
PAEL 43.35 Increased By ▲ 1.58 (3.78%)
PIBTL 17.08 Increased By ▲ 0.27 (1.61%)
PIOC 299.81 Increased By ▲ 3.19 (1.08%)
PPL 222.90 Increased By ▲ 2.73 (1.24%)
PRL 52.25 Increased By ▲ 3.20 (6.52%)
SNGP 108.05 Increased By ▲ 1.92 (1.81%)
SSGC 29.50 Increased By ▲ 0.36 (1.24%)
TELE 8.96 Increased By ▲ 0.14 (1.59%)
TPLP 13.10 Increased By ▲ 0.59 (4.72%)
TRG 60.48 Increased By ▲ 0.26 (0.43%)
UNITY 10.57 Increased By ▲ 0.55 (5.49%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) نے ڈینجرس پیٹرولیم لائسنس (ڈی پی ایل) حاصل کرنے کی آخری تاریخ میں 23 اکتوبر 2025 تک کی توسیع کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے توانائی پیٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک، ڈی جی ایکسپلوزیو عبدل علی خان اور ڈائریکٹر محمد آفتاب قاضی سے اظہار تشکر کیا ہے۔

ایک بیان میں چیئرمین پی سی ڈی ایم اے سلیم ولی محمد نے کہا کہ وزارت کی جانب سے بروقت مداخلت قابل ستائش ہے تاہم ڈی پی ایل قوانین کا بنیادی مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔ توسیع تکنیکی طور پر صرف 42 دن کی مہلت ہے جبکہ صنعتی درآمدی سائیکل اوسطاً 60 سے 90 دن کا ہوتا ہے جو خام مال کی تیاری، شپمنٹ اور درآمد کے مراحل پر مشتمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن کیمیکلز خام مال کو ڈی پی ایل کلاس بی اور سی میں شامل کیا گیا ہے وہ نہ تو ہائیڈرو کاربن ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا ایندھن۔ یہ خالص صنعتی آرگینک کمپاؤنڈز ہیں جو ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، پلاسٹک، کھاد، چمڑا اور کاسمیٹکس جیسے اہم شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اشیاء کو پیٹرولیم ایکٹ کے تحت لانا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ اس سے صنعتی پیداوار، برآمدات اور ملک کے زرمبادلہ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے حکومت سے ڈی پی ایل قوانین پر نظرثانی اور غیر پیٹرولیم صنعتی خام مال کو اس سے مستثنیٰ قرار د دینے کا مطالبہ کیا تاکہ ملکی صنعت کسی بڑے بحران سے محفوظ رہ سکے۔سلیم ولی محمد نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ غلط درجہ بندی برقرار رہی تو صنعتی سپلائی چین متاثر ہوگی، برآمدی مسابقت کمزور پڑے گی اور معیشت کو طویل المدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.