BR100 Increased By (0.65%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.39%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.40 Increased By ▲ 0.20 (0.79%)
BOP 34.29 Increased By ▲ 0.30 (0.88%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.11 Increased By ▲ 2.14 (1.11%)
FABL 89.87 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
FCCL 53.37 Increased By ▲ 0.54 (1.02%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.36 Increased By ▲ 0.39 (2.06%)
HBL 286.51 Increased By ▲ 1.01 (0.35%)
HUBC 215.30 Increased By ▲ 0.92 (0.43%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.08 (1%)
LOTCHEM 27.78 Decreased By ▼ -0.11 (-0.39%)
MLCF 87.24 Increased By ▲ 0.73 (0.84%)
OGDC 322.20 Increased By ▲ 2.24 (0.7%)
PAEL 39.84 Increased By ▲ 0.42 (1.07%)
PIBTL 16.95 Increased By ▲ 0.28 (1.68%)
PIOC 270.20 Increased By ▲ 4.14 (1.56%)
PPL 229.75 Increased By ▲ 1.57 (0.69%)
PRL 34.89 Increased By ▲ 0.21 (0.61%)
SNGP 99.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.83 Increased By ▲ 0.23 (0.86%)
TELE 8.61 Increased By ▲ 0.33 (3.99%)
TPLP 8.63 Increased By ▲ 0.41 (4.99%)
TRG 69.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.30 Increased By ▲ 0.02 (1.56%)

پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) نے ڈینجرس پیٹرولیم لائسنس (ڈی پی ایل) حاصل کرنے کی آخری تاریخ میں 23 اکتوبر 2025 تک کی توسیع کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے توانائی پیٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک، ڈی جی ایکسپلوزیو عبدل علی خان اور ڈائریکٹر محمد آفتاب قاضی سے اظہار تشکر کیا ہے۔

ایک بیان میں چیئرمین پی سی ڈی ایم اے سلیم ولی محمد نے کہا کہ وزارت کی جانب سے بروقت مداخلت قابل ستائش ہے تاہم ڈی پی ایل قوانین کا بنیادی مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔ توسیع تکنیکی طور پر صرف 42 دن کی مہلت ہے جبکہ صنعتی درآمدی سائیکل اوسطاً 60 سے 90 دن کا ہوتا ہے جو خام مال کی تیاری، شپمنٹ اور درآمد کے مراحل پر مشتمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن کیمیکلز خام مال کو ڈی پی ایل کلاس بی اور سی میں شامل کیا گیا ہے وہ نہ تو ہائیڈرو کاربن ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا ایندھن۔ یہ خالص صنعتی آرگینک کمپاؤنڈز ہیں جو ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، پلاسٹک، کھاد، چمڑا اور کاسمیٹکس جیسے اہم شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اشیاء کو پیٹرولیم ایکٹ کے تحت لانا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ اس سے صنعتی پیداوار، برآمدات اور ملک کے زرمبادلہ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے حکومت سے ڈی پی ایل قوانین پر نظرثانی اور غیر پیٹرولیم صنعتی خام مال کو اس سے مستثنیٰ قرار د دینے کا مطالبہ کیا تاکہ ملکی صنعت کسی بڑے بحران سے محفوظ رہ سکے۔سلیم ولی محمد نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ غلط درجہ بندی برقرار رہی تو صنعتی سپلائی چین متاثر ہوگی، برآمدی مسابقت کمزور پڑے گی اور معیشت کو طویل المدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.