پولیس پھر نوجوانوں کو زخمی کرے گی، کاکروچ پارٹی کا مارچ روکنے کا اعلان
- دہلی پولیس کے مطابق جھڑپوں میں مجموعی طور پر تقریباً 180 افراد زخمی ہوئے
بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھے گی، تاہم پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد دوبارہ پارلیمنٹ کی جانب مارچ نہیں کرے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیر کو نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
دہلی پولیس کے مطابق جھڑپوں میں مجموعی طور پر تقریباً 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اور سکیورٹی اہلکار جبکہ 60 مظاہرین شامل ہیں۔ پولیس نے مزید بتایا کہ 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پیر کو دہلی اور گرد و نواح کے شہروں سے ہزاروں نوجوان پارلیمنٹ کی طرف مارچ کے لیے جمع ہوئے تھے۔ یہ تحریک ابتدا میں سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، تاہم اب یہ وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کو درپیش سب سے بڑے عوامی چیلنجز میں شمار کی جا رہی ہے۔
چند ماہ قبل شروع ہونے والی اس تحریک نے لاکھوں جنریشن زی نوجوانوں کی حمایت حاصل کی ہے، جو مئی میں ہونے والے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان پرچہ لیکس سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے تھے۔
منگل کی صبح تقریباً 150 سے 200 مظاہرین وسطی دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہوئے اور ہلکی بارش کے باوجود نعرے بازی کرتے رہے، جبکہ علاقے میں نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات رہی اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مزید نوجوانوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے پارلیمنٹ کی جانب مارچ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 150 سے زائد مظاہرین اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، تاہم خبر رساں ادارہ رائٹرز اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔






















Comments