BR100 Decreased By (-0.36%)
BR30 Decreased By (-0.49%)
KSE100 Decreased By (-0.3%)
KSE30 Decreased By (-0.33%)
BAFL 56.52 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
BIPL 24.62 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 29.97 Decreased By ▼ -0.15 (-0.5%)
CNERGY 12.80 Decreased By ▼ -0.18 (-1.39%)
DFML 17.85 Increased By ▲ 0.36 (2.06%)
DGKC 184.30 Decreased By ▼ -2.92 (-1.56%)
FABL 93.55 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
FCCL 51.40 Decreased By ▼ -0.25 (-0.48%)
FFL 14.39 Decreased By ▼ -0.10 (-0.69%)
GGL 18.90 Decreased By ▼ -0.14 (-0.74%)
HBL 302.72 Decreased By ▼ -1.06 (-0.35%)
HUBC 197.75 Decreased By ▼ -1.21 (-0.61%)
HUMNL 9.94 Increased By ▲ 0.09 (0.91%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.03 (-0.5%)
LOTCHEM 26.35 Increased By ▲ 0.18 (0.69%)
MLCF 89.78 Decreased By ▼ -1.45 (-1.59%)
OGDC 313.42 Increased By ▲ 0.03 (0.01%)
PAEL 35.01 Decreased By ▼ -0.23 (-0.65%)
PIBTL 14.64 Decreased By ▼ -0.07 (-0.48%)
PIOC 236.00 Decreased By ▼ -3.62 (-1.51%)
PPL 219.00 Decreased By ▼ -2.36 (-1.07%)
PRL 91.30 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
SNGP 90.45 Decreased By ▼ -0.42 (-0.46%)
SSGC 23.08 Decreased By ▼ -0.22 (-0.94%)
TELE 7.56 Decreased By ▼ -0.05 (-0.66%)
TPLP 12.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.48%)
TRG 55.31 Decreased By ▼ -0.48 (-0.86%)
UNITY 7.99 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات 179(3) اور 179(4) کے تحت مقررہ مدت کے اندر کارروائی مکمل کرنا لازمی ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے، نے ایم/ایس کمانڈر ایگرو پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ 5 دسمبر 2014 کو جاری ہونے والے شوکاز نوٹس کے بعد کیا اصل حکم مقررہ مدت کے اندر دیا گیا تھا یا نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس وقت قانون کے مطابق کلیکٹر کسٹمز فیصل آباد کو 120 دن کے اندر فیصلہ دینا تھا، جبکہ وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 60 دن کی توسیع دی جا سکتی تھی۔

عدالت کے مطابق قانون کے تحت کل 150 دن یعنی 120 دن اور 30 دن کی التوا کی گنجائش موجود تھی، جس کے تحت فیصلہ 4 مئی 2015 تک ہونا چاہیے تھا، تاہم ریکارڈ میں فیصلہ 19 مئی یا 4 جون 2015 کو دکھایا گیا۔ اس بنیاد پر سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مقررہ مدت سے تجاوز کرنا قانون کے خلاف ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے ”سپر ایشیا کیس“ (2017 ایس سی ایم آر 1427) اور بعد ازاں بڑے بینچ نے ”ویک لمیٹڈ کیس“ (2025 ایس سی ایم آر 1280) میں اسی اصول کو برقرار رکھا تھا، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسٹمز ایکٹ کے تحت وقت کی پابندی لازمی نوعیت رکھتی ہے۔

یہ فیصلہ مستقبل میں کسٹمز تنازعات کے تصفیے کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.