سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات 179(3) اور 179(4) کے تحت مقررہ مدت کے اندر کارروائی مکمل کرنا لازمی ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے، نے ایم/ایس کمانڈر ایگرو پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ 5 دسمبر 2014 کو جاری ہونے والے شوکاز نوٹس کے بعد کیا اصل حکم مقررہ مدت کے اندر دیا گیا تھا یا نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس وقت قانون کے مطابق کلیکٹر کسٹمز فیصل آباد کو 120 دن کے اندر فیصلہ دینا تھا، جبکہ وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 60 دن کی توسیع دی جا سکتی تھی۔
عدالت کے مطابق قانون کے تحت کل 150 دن یعنی 120 دن اور 30 دن کی التوا کی گنجائش موجود تھی، جس کے تحت فیصلہ 4 مئی 2015 تک ہونا چاہیے تھا، تاہم ریکارڈ میں فیصلہ 19 مئی یا 4 جون 2015 کو دکھایا گیا۔ اس بنیاد پر سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مقررہ مدت سے تجاوز کرنا قانون کے خلاف ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے ”سپر ایشیا کیس“ (2017 ایس سی ایم آر 1427) اور بعد ازاں بڑے بینچ نے ”ویک لمیٹڈ کیس“ (2025 ایس سی ایم آر 1280) میں اسی اصول کو برقرار رکھا تھا، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسٹمز ایکٹ کے تحت وقت کی پابندی لازمی نوعیت رکھتی ہے۔
یہ فیصلہ مستقبل میں کسٹمز تنازعات کے تصفیے کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.