صدر مملکت نے لیاقت علی کو بعد از شہادت ستارۂ شجاعت سے نواز دیا
- لیاقت علی کو بعد از شہادت ستارۂ شجاعت عطا کرنا کوہاٹ کے قریب مقامی افراد کی جانیں بچاتے ہوئے ان کی عظیم قربانی اور غیر معمولی جرات کا اعتراف ہے
صدر آصف علی زرداری نے منگل کے روز شہری لیاقت علی کو بعد از وفات ستارۂ شجاعت سے نوازا، جنہوں نے کوہاٹ کے قریب ایک بڑے سانحے کے دوران مقامی افراد کی جانیں بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ اعزاز وزیرِاعظم شہباز شریف کی سفارش پر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم آفس میڈیا ونگ کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اعزاز شہید کی والدہ نے وصول کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لیاقت علی کی جرات اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی کو نسلوں تک یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نے ہزاروں قربانیاں دی ہیں، اور قوم اپنے شہداء کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری دہشت گردی کے خطرات کے خلاف ملک کے دفاع کے لیے ”آہنی دیوار“ کی طرح متحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد قوم کے عزم اور حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتے۔
وزیراعظم نے کہا، ”میں سمیت پوری قوم شہید لیاقت علی اور ان کے اہلِ خانہ کو سلام پیش کرتی ہے۔“
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو بھی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں عطاالحق قاسمی (نشانِ امتیاز)، شاہد خان آفریدی (ہلالِ امتیاز)، سردار اویس احمد خان لغاری (ہلالِ امتیاز)، محمد علی (ہلالِ امتیاز)، اصغر ندیم سید (ہلالِ امتیاز)، مرحوم سینیٹر تاج حیدر (بعد از وفات) (ستارۂ پاکستان)، معزم جہان انصاری (ہلالِ امتیاز)، انجینئر جمال الدین احمد (ہلالِ امتیاز)، مرزا رضوان بیگ (ہلالِ امتیاز)، محمد یوسف خان (ہلالِ امتیاز)، ڈاکٹر عامر محمد (ہلالِ امتیاز)، پروفیسر ڈاکٹر اکرام الحق (ہلالِ امتیاز)، زہرہ مجید علی (ہلالِ امتیاز)، شہروز کاشف (ہلالِ امتیاز)، مرحوم ملک عطا محمد خان (بعد از وفات) (ہلالِ امتیاز)، احتشام الحق (ہلالِ امتیاز)، عزیز الدین (ہلالِ امتیاز)، بحرین کے سفارتکار محمد ابراہیم محمد عبدالقدیر شامل ہیں۔
ستارۂ شجاعت سے نوازے جانے والوں میں جواہد قمر، نیک گلزار علی شہید، سپاہی عزیر خان، سپاہی خطاب الرحمٰن، سپاہی گل عمرزئی، سپاہی عبدالصمد، سپاہی عمران خان، نائب صوبیدار محمد جان، لانس نائیک سید الرحمٰن، سپاہی حضرت اللہ، سپاہی خانزادہ، سپاہی مشتاق احمد، سپاہی بصیر اللہ، سپاہی مہتاب الرحمٰن، سپاہی شیر رحمان اور سپاہی فضل کریم سمیت متعدد اہلکار شامل ہیں (زیادہ تر بعد از وفات)۔
اسی طرح ستارۂ شجاعت سے نوازے جانے والوں میں سپاہی محمد یوسف شہید (بعد از وفات)، کانسٹیبل محمد شہریار شہید (بعد از وفات)، فیصل اسماعیل شہید (بعد از وفات)، عبدالوکيل شہید (بعد از وفات)، فضل منان شہید (بعد از وفات)، اے ایس آئی نور حکیم شہید (بعد از وفات)، کانسٹیبل زاہد اللہ شہید (بعد از وفات) اور لیاقت علی شہید (بعد از وفات) شامل ہیں۔
اسی طرح ستارۂ امتیاز حاصل کرنے والوں میں سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر) محمد آغا، ڈاکٹر محمد فخر عالم، نبيل منیر، افتخار امجد، لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف، ڈاکٹر نسیم فراز، جاوید اکبر ریاض، بریگیڈیئر فیصل شوکت جہانگیری، احمد عبدالمعیز خواجہ، عرفان احسن، حمزہ ٹبّانی، ڈاکٹر ارشد رحمان (امریکا/پاکستان)، مرحوم منیر احمد چودھری، محمد یاسین خان، ارشد ولی محمد، احمد رضا، پروفیسر سرور محمد خواجہ، حمرہ عباس، مرحوم جسٹس سید دیدار حسین شاہ، ندیم حسین اور ندیم محبوب شامل ہیں۔
رشید وحید خواجہ اور زاہد احمد کو پرائیڈ آف پرفارمنس جبکہ محمد سعید شیخ کو ستارۂ خدمت اور شاہد حسین کو تمغۂ شجاعت سے نوازا گیا۔
تمغۂ امتیاز حاصل کرنے والوں میں آئی جی سندھ جاوید اختر اوڈھو، نادر شفیع ڈار، ڈاکٹر محمد شبیر چودھری، محمد کاشف اشفاق، چوہدری امانت حسین مہر، ڈاکٹر فرحت اختر راجہ، ڈاکٹر خرم حیات خان، ڈاکٹر محمد شبی احمد، ڈاکٹر ذیشان علی، سید زاہد حسین شاہ، راجہ سلیمان رضا، ساجد عباس، نوید انور چودھری، عبد الوحید خان، عبد الوہاب شیخ، وقاص الحسن، شازیہ سکندر رانا، محسن نواز، محمد ارسلان ظفر، عبدالمحی شاہ، ڈاکٹر راؤ کامران علی، ڈاکٹر عمران سید، ڈاکٹر محمد نعیم ملک، ناصر آفتاب، پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری، عامر جاوید شیخ، ڈاکٹر انعم فاطمہ، کیپٹن (ر) قاضی علی رضا، کیپٹن (ر) چودھری اویس افضل، صاحبزادہ محمد یوسف، وسیم احمد، پروفیسر محمد طیب، سی ای او اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز اتھارٹی نادیہ جہانگیر سیٹھ اور ضیاء الحسن لنجار شامل ہیں۔






















Comments