امریکا معاہدے کی پاسداری کرے تو ایران بھی ایسا ہی کریگا، صدر مسعود پزشکیان
- یہ بیان امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں جولائی کے آخر کے بعد براہ راست حملوں کے پہلے تبادلے کے بعد سامنے آیا ہے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو کہا کہ اگر امریکا جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واپس آتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر معاہدے پر عمل کریگا۔
انہوں نے یہ بیان بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس کے موقع پر دیا۔ یہ بیان امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں جولائی کے آخر کے بعد براہ راست حملوں کے پہلے تبادلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکا نے لارک جزیرے کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے اردن میں موجود 2 امریکی فضائی اڈوں پر حملے کیے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ میں واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ اگر امریکا مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واپس آتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران فوری طور پر ایسا ہی جواب دے گا۔
وہ جون میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں طے پانے والے عبوری معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے۔ یہ جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے اختلافات کے باعث یہ معاہدہ جلد ہی ناکام ہوگیا۔
تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ جہاز رانی کی اجازت اسی صورت دی جائے گی جب واشنگٹن معاہدے کی شرائط پر عمل کرے گا۔
پزشکیان نے پیر کو بشکیک میں کہا تھا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور ایران اب بھی واشنگٹن کے ساتھ تنازع کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حملوں کے بعد فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ جواب دیا جائے گا، تاہم اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تازہ حملوں کا مطلب مکمل جنگ کی طرف واپسی نہیں ہے۔
























Comments