امن معاہدے کے بعد تعاون پر بات چیت، پاکستان اور ایرانی قیادت کے درمیان پہلا ٹیلیفونک رابطہ
- شہباز شریف اگلے مرحلے کی کامیابی کے لیے پُر امید
وزيراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزيراعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد امن معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا باضابطہ رابطہ ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق یہ گفتگو 30 منٹ سے زائد جاری رہی، جس کے دوران وزیراعظم نے ایرانی صدر، وہاں کی قیادت اور عوام کو امن معاہدے کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔
شہباز شریف نے اس پیش رفت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن کی بحالی، ایران کی تعمیرِ نو کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوگا اور مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔
وزيراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی نیک خواہشات کا پیغام بھیجا۔
معاہدے پر دستخط کرنے کے تہران کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے شہباز شریف نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کی کامیابی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور ایران کو ایک پڑوسی اور برادر ملک کی حیثیت سے پاکستان کی مسلسل حمایت کا یقین دلایا۔
صدر مسعود پزشکیان نے وزيراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے بقول اس ثالثی کے عمل کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں یہ معاہدہ ممکن ہوا۔
بیان کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران ایک مشکل دور میں پاکستان کی ان تعمیری کوششوں اور حمایت کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔
ایرانی صدر نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی تہران کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اور علاقائی امور پر تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے جلد از جلد ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے آنے والے دنوں میں بھی ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہنے کا عزم دہرایا۔




















Comments