BR100 Increased By (0.78%)
BR30 Increased By (1.43%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.67%)
BAFL 55.93 Increased By ▲ 0.07 (0.13%)
BIPL 24.30 Increased By ▲ 0.22 (0.91%)
BOP 28.92 Increased By ▲ 0.34 (1.19%)
CNERGY 12.92 Increased By ▲ 0.21 (1.65%)
DFML 16.00 Decreased By ▼ -0.10 (-0.62%)
DGKC 182.60 Increased By ▲ 0.99 (0.55%)
FABL 91.97 Increased By ▲ 0.37 (0.4%)
FCCL 52.00 Increased By ▲ 0.53 (1.03%)
FFL 14.04 Increased By ▲ 0.03 (0.21%)
GGL 20.38 Increased By ▲ 1.35 (7.09%)
HBL 288.51 Increased By ▲ 1.25 (0.44%)
HUBC 193.70 Increased By ▲ 2.19 (1.14%)
HUMNL 9.20 Increased By ▲ 0.08 (0.88%)
KEL 5.96 Increased By ▲ 0.02 (0.34%)
LOTCHEM 26.09 Decreased By ▼ -0.22 (-0.84%)
MLCF 90.80 Increased By ▲ 0.99 (1.1%)
OGDC 303.07 Increased By ▲ 3.33 (1.11%)
PAEL 34.00 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
PIBTL 13.79 Increased By ▲ 0.07 (0.51%)
PIOC 232.75 Increased By ▲ 1.69 (0.73%)
PPL 219.72 Increased By ▲ 2.25 (1.03%)
PRL 104.30 Increased By ▲ 5.11 (5.15%)
SNGP 90.70 Increased By ▲ 0.78 (0.87%)
SSGC 23.06 Increased By ▲ 0.44 (1.95%)
TELE 7.23 Increased By ▲ 0.18 (2.55%)
TPLP 11.90 Increased By ▲ 0.08 (0.68%)
TRG 56.00 Decreased By ▼ -0.55 (-0.97%)
UNITY 8.10 Decreased By ▼ -0.37 (-4.37%)
WTL 0.98 Increased By ▲ 0.02 (2.08%)

برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے، حالانکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں نمایاں بحالی ہوئی ہے۔ اس صورتِ حال نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ایک مشکل سوال کھڑا کردیا ہے کہ تیل کی عالمی منڈی ان کی بار بار کی جانے والی یقین دہانیوں پر ردعمل دینا کیوں بند ہوگئی ہے کہ امن معاہدہ جلد طے پانے والا ہے اور قیمتیں تیزی سے گر جائیں گی؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ تاجر اب اس جنگ کے نتائج کو قیمتوں میں شامل کررہے ہیں، جسے ختم کرنے کا وعدہ واشنگٹن اب پورے اعتماد سے نہیں کرسکتا؟

کئی ماہ تک امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جلد معاہدے کی پیش گوئیاں توانائی کی قیمتوں پر تقریباً مالیاتی پالیسی جیسا اثر ڈالتی رہیں۔ تاجروں کو یقین تھا کہ وہ بالآخر کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔

آخرکار وسط مدتی انتخابات قریب آرہے ہیں اور امریکی شہری ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شدید متاثر ہورہے ہیں۔ ایسے میں صدر کے پاس ہر وجہ موجود ہے کہ وہ اس تنازعے کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ بننے سے روکیں۔مگر محض ترغیبات اسی وقت کارآمد ہوتی ہیں جب انہیں عملی نتائج میں تبدیل کیا جاسکے اور اب تیل کی منڈی کو اس بات پر پہلے کے مقابلے میں کہیں کم یقین ہے کہ ٹرمپ ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کو درپیش تضاد پر غور کریں۔ آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل میں نمایاں بحالی کے باوجود برینٹ کی قیمت بلند سطح پر برقرار ہے، تیل بردار جہازوں کی انشورنس اور کرائے کے اخراجات ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکے ہیں، جبکہ ڈیزل کی فراہمی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی قلت 2027ء تک برقرار رہ سکتی ہے۔ ایجنسی کے مطابق ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ اور روس سے ڈیزل کی مجموعی برآمدات یومیہ 13 لاکھ بیرل کم ہوئیں۔ اگر تیل کی ترسیل میں بحالی بھی اعتماد بحال نہیں کرسکتی تو پھر سوال یہ ہے کہ صدر کی یقین دہانی آخر کیا فرق ڈال سکتی ہے؟

شاید اس سوال کا جواب رسد کی بحالی اور سلامتی کی بحالی کے درمیان فرق میں پوشیدہ ہے۔ تیل بردار جہاز دوبارہ سمندر میں سفر شروع کرسکتے ہیں، لیکن ان کے مالکان کو اب بھی کسی نئے حملے، مزید کشیدگی یا اچانک ترسیل رک جانے کے امکان کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ کئی ماہ کے تنازعے کے دوران تباہ ہونے والی آئل ریفائنریاں محض سفارتی اعلان سے دوبارہ فعال نہیں ہوسکتیں۔

منڈی کو رسد فراہم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ذخائر بھی راتوں رات دوبارہ نہیں بھرے جاسکتے۔ جتنی دیر یہ رکاوٹیں برقرار رہیں گی، کسی قابلِ اعتماد جنگ بندی کے لیے بھی فوری معاشی ریلیف فراہم کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔

یہیں ٹرمپ کے جنگ میں شامل ہونے کے ابتدائی فیصلے پر تازہ ترین آئل فیوچرز کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مقابلے میں کہیں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

کیا بینجمن نیتن یاہو کی پیروی کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے وقت واشنگٹن نے سنجیدگی سے یہ توقع کی تھی کہ وہ دنیا کی اہم ترین اسٹریٹیجک توانائی گزرگاہوں میں سے ایک سے وابستہ تنازعے کے معاشی نتائج پر قابو پاسکے گا؟ یہ مفروضہ کہ فوجی برتری کو قابلِ انتظام جغرافیائی سیاسی نتائج میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، اب تیزی سے مشکوک ہوتا جارہا ہے، کیونکہ جنگ کے اثرات سعودی تیل تنصیبات، بین الاقوامی بحری نقل و حمل، عالمی ریفائننگ صلاحیت اور امریکی گھرانوں کے بجٹ تک پہنچ رہے ہیں۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ایران کے ساتھ شروع ہونے والا تصادم اب پھیل کر یمن اور سعودی عرب کے درمیان ایک اور خطرناک کشیدگی کا باعث بن گیا ہے، جس سے توانائی کی تنصیبات ایک بار پھر خطرات کی زد میں آگئی ہیں۔

اگرچہ ہر فریق کے اپنے مفادات اور مقاصد ہوسکتے ہیں لیکن یہ پیش رفت جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی وسیع تر علاقائی کشیدگی کا حصہ ہے۔ کیا امریکی انتظامیہ اس بات کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی کہ یہ تنازع ان علاقائی کمزوریوں کو کتنی آسانی سے متحرک کرسکتا ہے جن کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی توانائی عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے؟

معاشی حساب کتاب اب تیزی سے سخت ہوتا جارہا ہے۔ امریکا میں ڈیزل کی قیمت 6.50 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ستمبر میں ڈیزل کی ریفائننگ کا منافع تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھو گیا۔

روس سے ڈیزل کی کچھ برآمدات بحال کرنے کے لیے ٹرمپ کے انتظامات محدود ریلیف فراہم کرسکتے ہیں، لیکن تین ماہ کے دوران اضافی رسد کی وعدہ کردہ مقدار دنیا میں ڈیزل کی تقریباً نصف دن کی کھپت کے برابر ہے۔ ایک وسیع علاقائی جنگ کے نتائج کا مقابلہ رسد میں اتنے معمولی اضافے سے کرنے کی کوشش میں ایک عجیب تضاد ہے، جس پر منڈیاں بمشکل ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔

دریں اثنا مہنگائی کا مسئلہ توانائی کے شعبے سے نکل کر معیشت کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کا خطرہ پیدا کررہا ہے۔ امریکا میں ستمبر کے دوران صارفین کے قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) میں ماہانہ بنیاد پر 0.6 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں سالانہ مہنگائی کی شرح 3.7 فیصد تک پہنچ گئی، جو ماہرینِ معیشت کی توقعات سے معمولی زیادہ ہے۔

مسلسل مہنگے ایندھن کے باعث نقل و حمل اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے، جس سے امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روزگار کے مواقع میں اضافے کی رفتار سست پڑنے لگی ہے۔

اس صورتِ حال نے پالیسی سازوں کے لیے ایک مشکل مخمصہ پیدا کردیا ہے۔ مالیاتی منڈیاں رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کا امکان صرف 20 فیصد لگارہی ہیں، تاہم سال کے بعد کے مہینوں میں مزید سخت اقدامات کی توقع کی جارہی ہے۔

لیکن اگر توانائی کی قیمتوں کا جھٹکا دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا رہا تو مرکزی بینک کے پاس شرح سود میں اضافے کو روکنے کی کتنی گنجائش باقی رہ جائے گی؟ اور اگر مہنگائی کے دباؤ کے باعث شرح سود بلند رکھنا ناگزیر ہوگیا تو معاشی ترقی کا کیا ہوگا، خصوصاً ایسی جنگ کے تناظر میں جس کی مدت پر واشنگٹن کا اختیار بھی یقینی نہیں رہا؟

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے سرکاری بانڈز پر منافع کی شرح میں بے قابو اضافے کے امکان سے متعلق تازہ انتباہ نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔

حکومتوں پر پہلے ہی قرضوں کا بوجھ بڑھا ہوا ہے، جبکہ حکومتیں اور زیادہ سرمایہ طلب کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیاں مالی وسائل کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کررہی ہیں۔ مسلسل مہنگائی اس مقابلے کو مزید مہنگا بنادیتی ہے۔

امریکی حکومت کے 10 سالہ ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرح اب بھی 5 فیصد سے زیادہ ہے، جس سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ توانائی کی قیمتوں کا جھٹکا ابتدائی خلل ختم ہونے کے طویل عرصے بعد بھی قرض لینے کی لاگت، اثاثوں کی مالیت اور سرکاری مالیات پر اثرانداز ہوتا رہے گا۔

پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے ان اثرات کو نظرانداز کرنا خاص طور پر مشکل ہے۔ اگرچہ آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل بحال ہوئی ہے، لیکن مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل اب بھی شدید متاثر ہے، جبکہ قطر کی تباہ شدہ تنصیبات کی بحالی میں طویل وقت لگنے کا خدشہ ہے۔

عالمی توانائی تحقیق و مشاورتی ادارے ووڈ میکنزی نے اب توقع ظاہر کی ہے کہ رواں سال جنوبی ایشیا میں ایل این جی کی طلب تقریباً 60 لاکھ ٹن کم ہوجائے گی، حالانکہ اس سے پہلے طلب میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ لیکن کیا طلب میں کمی واقعی ریلیف کی علامت ہے، جب اس کی وجہ رسد کی شدید قلت اور ناقابلِ برداشت قیمتیں ہوں؟

درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے زیادہ تشویش ناک امکان یہ ہے کہ کاروباری ادارے اور بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس مہنگی ہوتی اور کم دستیاب توانائی خریدنے کی استطاعت کھوتے جارہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں صنعتی سرگرمیوں، بجلی کی قیمتوں اور معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

یہ تمام صورتِ حال ہمیں ایک بار پھر اس سیاسی اور معاشی حساب کتاب کی طرف لے آتی ہے جو اس بحران کے مرکز میں ہے۔

ٹرمپ اب بھی کسی امید افزا بیان یا سفارتی اعلان کے ذریعے عارضی طور پر منڈیوں کا رخ تبدیل کرسکتے ہیں۔ لیکن اب منڈیاں محض وعدوں کے بجائے اس بات کے شواہد مانگ رہی ہیں کہ تنازعے پر واقعی قابو پایا جاسکتا ہے، توانائی کی تنصیبات بحال ہوسکتی ہیں اور خطے میں کشیدگی کا ایک اور دور اب تک ہونے والی پیش رفت کو ناکام نہیں بنائے گا۔

ممکن ہے کہ مستقبل میں کوئی پائیدار معاہدہ تیل کی قیمتوں پر صدر کے اثر و رسوخ کو بحال کردے۔ لیکن اگر جنگ کے معاشی نتائج اپنی الگ رفتار اختیار کرچکے ہیں تو ایک سوال کا جواب دینا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوسکتا ہے: ٹرمپ آخر کب تک اس بحران سے ریلیف دینے کا وعدہ کرتے رہیں گے، جسے پیدا کرنے میں ان کے اپنے جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے نے بھی کردار ادا کیا؟

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف