BR100 Increased By (1.01%)
BR30 Increased By (1.77%)
KSE100 Increased By (0.87%)
KSE30 Increased By (0.95%)
BAFL 55.99 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.34 Increased By ▲ 0.26 (1.08%)
BOP 28.89 Increased By ▲ 0.31 (1.08%)
CNERGY 12.93 Increased By ▲ 0.22 (1.73%)
DFML 15.98 Decreased By ▼ -0.12 (-0.75%)
DGKC 183.54 Increased By ▲ 1.93 (1.06%)
FABL 92.00 Increased By ▲ 0.40 (0.44%)
FCCL 52.25 Increased By ▲ 0.78 (1.52%)
FFL 14.17 Increased By ▲ 0.16 (1.14%)
GGL 20.50 Increased By ▲ 1.47 (7.72%)
HBL 289.50 Increased By ▲ 2.24 (0.78%)
HUBC 194.27 Increased By ▲ 2.76 (1.44%)
HUMNL 9.15 Increased By ▲ 0.03 (0.33%)
KEL 6.02 Increased By ▲ 0.08 (1.35%)
LOTCHEM 26.37 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 91.15 Increased By ▲ 1.34 (1.49%)
OGDC 303.50 Increased By ▲ 3.76 (1.25%)
PAEL 34.44 Increased By ▲ 0.85 (2.53%)
PIBTL 13.82 Increased By ▲ 0.10 (0.73%)
PIOC 233.10 Increased By ▲ 2.04 (0.88%)
PPL 221.00 Increased By ▲ 3.53 (1.62%)
PRL 103.90 Increased By ▲ 4.71 (4.75%)
SNGP 90.55 Increased By ▲ 0.63 (0.7%)
SSGC 23.20 Increased By ▲ 0.58 (2.56%)
TELE 7.23 Increased By ▲ 0.18 (2.55%)
TPLP 11.90 Increased By ▲ 0.08 (0.68%)
TRG 57.50 Increased By ▲ 0.95 (1.68%)
UNITY 8.25 Decreased By ▼ -0.22 (-2.6%)
WTL 0.98 Increased By ▲ 0.02 (2.08%)
کاروبار اور معیشت

عالمی تجارت میں تقسیم پاکستان کیلئے نئے مواقع پیدا کررہی ہے، محمد اورنگزیب

  • بعض اوقات مشکل حالات میں بھی مواقع پیدا ہوتے ہیں، وزیر خزانہ
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی تجارت میں بڑھتی ہوئی تقسیم پاکستان کے لیے علاقائی اقتصادی بلاکس کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کے نئے مواقع پیدا کررہی ہے۔ پاکستان اپنی اقتصادی شراکت داری کو متنوع بنانے اور جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تجارتی روابط مضبوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

چینل نیوز ایشیا کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ وہ اس وقت تھائی لینڈ میں موجود ہیں جہاں ان کی تھائی وزیرِ خزانہ سے ملاقات متوقع ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر حالیہ پیش رفت پاکستان کو اپنے روایتی تجارتی شراکت داروں سے آگے بڑھ کر نئی منڈیوں میں امکانات تلاش کرنے کا موقع فراہم کررہی ہے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بعض اوقات مشکل حالات میں بھی مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان کے امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات ہیں جبکہ امریکہ ملک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور یورپی یونین دوسرے نمبر پر ہے، تاہم موجودہ عالمی صورتحال پاکستان کو دیگر علاقائی اقتصادی بلاکس کے ساتھ تجارت بڑھانے کے امکانات تلاش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)، وسطی ایشیائی ریاستوں اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے ساتھ اقتصادی روابط کو فروغ دینے پر توجہ دے رہا ہے۔ ان کے مطابق ان خطوں کے ساتھ دوطرفہ تجارت بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے ملائیشیا اور انڈونیشیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف متعدد مرتبہ ملائیشیا کا دورہ کرچکے ہیں جبکہ ملائیشیا اور انڈونیشیا کی قیادت بھی پاکستان کے دورے کرچکی ہے۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق پاکستان اپنی بین الاقوامی اقتصادی شراکت داری کا رخ امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب موڑنا چاہتا ہے تاکہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے پاکستان کی حکمتِ عملی کو ’’یا یہ، یا وہ‘‘ کے بجائے دونوں ممالک کے ساتھ بیک وقت روابط برقرار رکھنے کا نقطۂ نظر قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ چین طویل عرصے سے پاکستان کا تزویراتی شراکت دار ہے۔ ان کے مطابق سی پیک کے پہلے مرحلے میں سڑکوں، بندرگاہوں اور توانائی منصوبوں سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں کاروباری اداروں کے درمیان تعاون اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اس بنیادی ڈھانچے سے معاشی فوائد حاصل کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ایسے بعض منصوبوں میں پیداوار شروع ہوچکی ہے اور وہاں تیار ہونے والی اشیا برآمد کی جارہی ہیں۔

وزیرِخزانہ نے پاکستان کی معیشت میں خلیجی ممالک کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ تجارت کے ساتھ ساتھ ان ممالک سے موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر بھی ملکی معیشت کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان کو 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں جبکہ رواں سال یہ رقم بڑھ کر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

محمد اورنگزیب کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان عالمی تجارت کے بدلتے ہوئے رجحانات اور جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر اپنی اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور تجارت و سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

Comments

200 حروف