ستمبر میں امریکی مہنگائی بڑھ گئی، رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی شرحِ سود میں اضافے کا امکان پھر زیرِ غور
- امریکی محکمۂ محنت کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) رپورٹ سے ظاہر ہوا کہ توانائی کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی قیمتوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے
مریکا میں ستمبر میں صارفین کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ تھا۔ اس سے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کو ایک اور دھچکا لگا ہے، جبکہ رواں ماہ کے اواخر میں شرحِ سود میں اضافے کا امکان بھی دوبارہ زیرِ غور آ گیا ہے۔
بدھ کو امریکی محکمۂ محنت کی جانب سے جاری کردہ صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) رپورٹ سے ظاہر ہوا کہ توانائی کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی قیمتوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس سے ماہرینِ معیشت میں یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ بنیادی مہنگائی کی شرح میں کمی کا عمل سست پڑ سکتا ہے اور مہنگائی بدستور بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہے۔ اس رپورٹ کے بعد مالیاتی منڈیوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ فیڈرل ریزرو کے لیے رواں ماہ شرحِ سود سے متعلق فیصلہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
اس رپورٹ نے رواں ماہ سامنے آنے والے ان سرویز کے خدشات میں بھی اضافہ کیا ہے جن سے ظاہر ہوا تھا کہ صارفین کے اعتماد میں مزید کمی آئی ہے اور ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح تیزی سے گری ہے۔ اس کی بنیادی وجہ روزمرہ اخراجات میں اضافے پر عوامی تشویش ہے۔
رائٹرز اور اِپسوس کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 78 فیصد امریکیوں نے قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹرمپ کی پالیسیوں کو ٹھہرایا، جن میں درآمدات پر محصولات اور مشرقِ وسطیٰ کا تنازع شامل ہیں۔ قیمتیں اجرتوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
ایل پی ایل فنانشل کے چیف ماہرِ معیشت جیفری روچ نے کہا، ’’مہنگائی کو ہدف تک واپس لانے کا آخری مرحلہ اب بھی اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتا ہے، جس کے باعث شرحِ سود بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ رپورٹ رواں ماہ فیڈرل ریزرو کے فیصلے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے، کیونکہ قیمتوں میں استحکام کی جانب واپسی کا راستہ تیزی سے دشوار ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
امریکی محکمۂ محنت کے بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق اگست میں 0.4 فیصد اضافے کے بعد گزشتہ ماہ صارف اشاریۂ قیمت میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ ماہرینِ معیشت کی توقعات کے عین مطابق تھا۔
پٹرول کی قیمتوں میں 9.1 فیصد اضافے کے باعث ماہانہ بنیاد پر صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) میں ہونے والے مجموعی اضافے کا نصف سے زیادہ حصہ اسی ایک مد سے آیا۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ خدشہ ہے کہ ان اضافی اخراجات کا اثر جلد سپر مارکیٹوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں بھی سامنے آئے گا۔
جولائی اور اگست، دونوں ماہ 0.1 فیصد اضافے کے بعد ستمبر میں خوراک کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ گروسری اسٹورز میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں ماہانہ بنیاد پر 0.1 فیصد کم ہوئیں، تاہم سالانہ بنیاد پر ان میں 1.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ستمبر میں گائے کے گوشت کی قیمتیں 1 فیصد گر گئیں، جبکہ دودھ اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں 0.9 فیصد کمی ہوئی۔
اس کے برعکس غیر الکحل مشروبات کی قیمتوں میں 0.9 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ پھل اور سبزیاں 0.5 فیصد مہنگی ہوئیں۔
ستمبر تک گزشتہ 12 ماہ کے دوران صارف اشاریۂ قیمت میں 3.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اگست میں یہ شرح 3.4 فیصد تھی۔
بنیادی مہنگائی توقعات سے زیادہ رہی
خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو خارج کرکے دیکھا جائے تو ستمبر میں صارف اشاریۂ قیمت میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جو اگست میں ریکارڈ کیے گئے اضافے کے برابر ہے۔ رائٹرز کے سروے میں شامل ماہرینِ معیشت نے بنیادی صارف اشاریۂ قیمت میں 0.2 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔
بنیادی صارف اشاریۂ قیمت میں اضافے کی ایک اہم وجہ رہائش کے اخراجات میں 0.4 فیصد اضافہ تھا، جس میں ہوٹلوں اور موٹلز کے کمروں کے کرایے بھی شامل ہیں۔ مکان مالکان کے لیے اپنے زیرِ استعمال مکانات کے تخمینی کرائے میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا۔
تفریح اور تعلیم کے اخراجات بھی بڑھے۔ استعمال شدہ کاروں اور ٹرکوں کی قیمتوں میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جیٹ ایندھن مہنگا ہونے کے باعث فضائی کرایوں میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ملبوسات کی قیمتیں بھی 0.3 فیصد بڑھ گئیں۔
ستمبر تک گزشتہ 12 ماہ کے دوران بنیادی صارف اشاریۂ قیمت میں 2.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اگست میں یہ شرح 2.4 فیصد تھی۔ امریکی مرکزی بینک اپنے 2 فیصد مہنگائی کے ہدف کے تعین کے لیے ذاتی صرف کے اخراجات کا قیمت اشاریہ (پی سی ای) استعمال کرتا ہے۔
بنیادی صارف اشاریۂ قیمت (کور سی پی آئی) کے اعداد و شمار، بنیادی ذاتی صرف کے اخراجات کے قیمت اشاریے (کور پی سی ای) میں مہنگائی کی شرح کے مقابلے میں پیچھے ہیں۔ اگست میں کور پی سی ای مہنگائی کی شرح 3 فیصد رہی تھی۔ اس فرق کی وجہ دونوں اشاریوں میں اشیا و خدمات کی مختلف مدات کو دیا جانے والا وزن ہے۔
سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق، صارف اشاریۂ قیمت کی رپورٹ جاری ہونے سے قبل فیڈرل ریزرو کے 27 اور 28 اکتوبر کو ہونے والے پالیسی اجلاس میں شرحِ سود بڑھانے کے امکانات تقریباً 22 فیصد تھے، جو رپورٹ کے بعد بڑھ کر لگ بھگ 52 فیصد ہو گئے۔ ستمبر میں روزگار کے شعبے میں توقعات سے کم اضافے اور جولائی و اگست میں ذاتی صرف کے اخراجات کے قیمت اشاریے میں اندازوں سے کم مہنگائی کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد رواں ماہ شرحِ سود میں اضافے کے امکانات گھٹ گئے تھے۔
امریکی ٹریژری بانڈز کے منافع میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا، جبکہ دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بھی بڑھ گئی۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا۔
فیڈرل ریزرو نے ستمبر میں اپنی مختصر مدتی بنیادی شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ کرکے اسے 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں پہنچا دیا تھا۔ یہ تین سال میں شرحِ سود میں پہلا اضافہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی بینک نے آنے والے مہینوں میں قرض لینے کی لاگت مزید بڑھانے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ ماہرینِ معیشت کو توقع تھی کہ فیڈرل ریزرو دسمبر میں شرحِ سود بڑھائے گا۔
ستمبر کی مہنگائی رپورٹ کا لاکھوں ریٹائرڈ افراد اور سوشل سیکیورٹی سے مستفید ہونے والے دیگر افراد کو بے صبری سے انتظار تھا، کیونکہ وہ اس کے ذریعے اندازہ لگانا چاہتے تھے کہ اگلے سال ان کے وظائف میں کتنا اضافہ ہوگا۔
سوشل سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے 2027 کے لیے سوشل سیکیورٹی اور سپلیمنٹل سیکیورٹی انکم کے وظائف میں 3.6 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ ان پروگراموں سے ریٹائرڈ بزرگ امریکیوں کے علاوہ معذور افراد اور بعض بیواؤں، بیواؤں کے شوہروں اور بچوں کو بھی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

























Comments