بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بینکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے دوران جاری ہونے والی اپنی رپورٹ ’ورلڈ اکنامک آؤٹ لک‘ میں رواں سال پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جو عالمی شرحِ نمو 3.4 فیصد سے زیادہ، تاہم بجٹ میں مقرر کردہ 4 فیصد کے ہدف سے کم ہے۔ اس کے برعکس بھارت کی معاشی شرحِ نمو 7 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
یہ پیش گوئیاں پرانی ہوچکی ہیں جو کم از کم 3 ماہ قبل کی گئی تھیں۔ ممکن ہے کہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور روس، یوکرین تنازع کے حل سے متعلق امید پر مبنی اندازوں پر مبنی ہوں، تاہم یہ تنازعات سفارتی حل کی جانب بڑھنے کے بجائے وقت گزرنے کے ساتھ مزید شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث ایندھن کی قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہورہے ہیں اور دنیا بھر میں افراطِ زر میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور یورپی ممالک سمیت مغربی ممالک کو بانڈ ییلڈز میں اضافے کا سامنا ہے جس کے باعث جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے درکار قرضوں کا حصول ان کے لیے مسلسل مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ ان اخراجات میں امریکہ کی جانب سے یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ جبکہ یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین میں جنگ کے اخراجات شامل ہیں۔
علاقے سے تیل کی رسد شدید متاثر ہونے کے باعث امریکی ڈالر کو بالخصوص سخت دھچکا لگا ہے، کیونکہ پیٹرو ڈالر کا دور ختم ہوچکا ہے۔ خلیجی ممالک کی برآمدی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ یہی خطہ ہے جہاں سے تیل کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ خلیجی ممالک نے اپنے سالانہ بھاری تجارتی فاضل سرمائے کو امریکی ٹریژری بانڈز کی خریداری میں لگانے پر اتفاق کیا تھا جس کے نتیجے میں امریکہ کو انتہائی کم شرحِ سود پر قرض حاصل کرنے کی سہولت میسر تھی۔
اس وقت جاپان اور خلیجی ممالک اپنی نقدی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کرنے پر زیادہ غور کررہے ہیں۔ تاہم، اب تک امریکی وزیرِ خزانہ ان میں سے بعض مطالبات کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں تاکہ ڈالر کی قدر کو برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم، یہ سوال بدستور موجود ہے کہ وہ کب تک ایسا کرنے میں کامیاب رہیں گے۔
روس سے تیل کی درآمدات پر پابندیاں عائد کرنے کے نتیجے میں یورپی صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ صنعتوں کی مسلسل بندش اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی کے باعث یورپ میں افراطِ زر بڑھ رہا ہے اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہورہی ہے۔
یورپی قیادت کا یہ اصرار کہ وہ ایکویٹی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرکے اپنی صنعتی پیداوار کا رخ شہری استعمال کی اشیا سے فوجی سازوسامان کی تیاری کی جانب موڑ دے گی، یورپی بانڈز کے منافع کی شرح میں اضافے کا سبب بھی بن رہا ہے۔
ابھرتی ہوئی اس صورتِ حال میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی معاشی شرحِ نمو کے بارے میں کی گئی پیش گوئی دو وجوہات کی بنا پر ضرورت سے زیادہ پُرامید معلوم ہوتی ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت انتہائی سخت شرائط کے مطابق پیشگی اقدامات کے طور پر ایسے سخت مانیٹری اور مالیاتی اقدامات نافذ کیے جارہے ہیں جن کا مقصد معیشت میں طلب کو محدود کرنا ہے۔ اس کے ساتھ یوٹیلیٹی بلوں اور خدمات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ یہ تمام پالیسیاں معاشی ترقی کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو پاکستان کی برآمدات متوقع سطح سے کم رہنے کا امکان ہے کیونکہ ان ممالک کے لیے سمندری راستے سے ترسیل بدستور متاثر ہے جبکہ فضائی راستے سے برآمدات بھی خاصی مہنگی پڑتی ہیں۔
حالیہ مہینوں میں ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باوجود دیگر قومیتوں کے برعکس پاکستانیوں نے وطن واپس آنے کا فیصلہ نہیں کیا جب کہ واپس آنے والے پاکستانیوں میں سے بعض کو یکمشت ادائیگیاں بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ برقرار رہنے کی ضمانت نہیں جس کے نتیجے میں بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے حکومت کا مزید قرض لینے پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔ بجٹ خسارے کی مالی اعانت کے لیے قرضوں پر بڑھتا ہوا انحصار افراطِ زر میں اضافے کا باعث بننے والی پالیسی ہے۔
افراطِ زر کی شرح کے بارے میں پیش گوئی 9.9 فیصد کی بلند سطح پر کی گئی ہے لیکن اگست میں یہ شرح 11.1 فیصد اور ستمبر میں 10.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جو اس پیش گوئی سے تجاوز کرتی ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 44.7 فیصد ہوچکی ہے۔ غربت کی اس بلند شرح سے نمٹنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ لہٰذا حکومت کو اپنے جاری اخراجات میں نمایاں کمی کرنے کی ضرورت ہے جو ہرسال بڑھ رہے ہیں اور بجٹ کے مجموعی حجم کا تقریباً 93 فیصد بنتے ہیں۔
آخر میں بے روزگاری کی شرح 6.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے تاہم آزاد ماہرینِ معاشیات اسے تشویشناک حد تک بلند یعنی 22 فیصد قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ اندازہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے اپ لوڈ کیے گئے لیبر فورس سروے پر مبنی ہے۔
حکومت کے لیے فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے عملے کے ساتھ مذاکرات میں اپنا مؤثر دباؤ اور سودے بازی کی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی پابندیوں اور مجبوریوں کے پیشِ نظر حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں کہ وہ اپنے جاری اخراجات میں نمایاں کمی کرے۔ اس مقصد کیلئے حکومت کو بڑے پیمانے پر قربانیاں دینا ہوں گی اور آئندہ دو برسوں کے دوران کم از کم دو ٹریلین روپے کے اخراجات کم کرنا ہوں گے، تاہم اگر حکومت اس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس بات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں کہ موجودہ پروگرام کی مدت ختم ہونے کے بعد ملک کو آئی ایم ایف سے چھبیسویں پروگرام کے تحت قرض لینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments