60 گیگاواٹ سولر کے بعد بیٹریوں کا دور شروع
- پاکستان کا سولر انقلاب اپنی شکل تبدیل کررہا ہے، اور اس تبدیلی کی رفتار کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
پاکستان کا سولر انقلاب اپنی شکل تبدیل کررہا ہے، اور اس تبدیلی کی رفتار کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
تازہ ترین درآمدی اعداد و شمار اس صورتحال کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان نے تقریباً 405 ملین ڈالر مالیت کے سولر پینلز اور 182 ملین ڈالر کی لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کیں۔ دوسرے الفاظ میں، اب ملک سولر پینلز پر خرچ کیے جانے والے ہر 2.2 ڈالر کے مقابلے میں بیٹریوں پر ایک ڈالر خرچ کررہا ہے۔ صرف دو سال قبل یہ تناسب ہر ایک ڈالر کی بیٹری کے مقابلے میں 44 ڈالر کے سولر پینلز کا تھا۔
پاکستان کے سولر انقلاب کا پہلا مرحلہ بجلی پیدا کرنے سے متعلق تھا۔ صارفین نے دن کے وقت سستی بجلی پیدا کرنے اور تیزی سے مہنگے ہوتے گرڈ پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے سولر پینلز خریدے۔ عالمی سطح پر پینلز کی قیمتوں میں زبردست کمی نے بھی اس معاشی جواز کو تقویت دی، جس کے نتیجے میں گھروں کی چھتوں پر سولر تنصیب غیر معمولی رفتار سے عام ہوئے۔

یہ مرحلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ درحقیقت رواں سال کے آغاز میں رفتار کھونے کے بعد سولر پینلز کی درآمدات دوبارہ بحال ہوئی ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ایک اور تبدیلی بھی رونما ہورہی ہے۔ توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام قابل ذکر تیزی سے سولر کے ساتھ ہم آہنگ ہورہا ہے۔
اور یہ اہم ہے کیونکہ بیٹریاں گرڈ کے ساتھ تعلق کو تبدیل کردیتی ہیں۔
سولر پینلز سورج کی روشنی موجود ہونے کے وقت گرڈ سے بجلی کے استعمال کو کم کرتے ہیں۔ بیٹریاں اس سولر بجلی کو شام کے وقت تک منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ دونوں میں بنیادی فرق ہے۔ پہلا نظام گرڈ سے خریدی جانے والی بجلی کے حجم کو تبدیل کرتا ہے، جبکہ دوسرا اس بات کو تبدیل کرنا شروع کردیتا ہے کہ بجلی گرڈ سے کب اور ممکنہ طور پر کتنی مرتبہ خریدی جاتی ہے۔
پاکستان پہلے ہی تقریباً 60,000 میگاواٹ شمسی پینل کی گنجائش درآمد کرچکا ہے۔ یہ نصب شدہ یا نصب کیے جانے کے قابل ایک بہت بڑا بنیادی ڈھانچہ ہے، جسے بیٹریوں کے ساتھ منسلک کیا جانا باقی ہے۔ ملک کی سرکاری طور پر نیٹ میٹرنگ کے تحت منظور شدہ گنجائش اس تعداد کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ شمسی توانائی کی مارکیٹ کا کتنا بڑا حصہ باقاعدہ گرڈ سے منسلک نظام سے باہر ترقی کرچکا ہے۔

لہٰذا اگلے مرحلے کے لیے 2023 اور 2024 میں نظر آنے والی سطح کے ایک اور بڑے سولر پینل بوم کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا زیادہ تر سامان پہلے ہی چھتوں پر موجود ہے۔ ضرورت اب سستی توانائی ذخیرہ کرنے کی ہے۔
اور توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں ہی معاشی صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔
سولر ماڈیولز کی قیمتیں تقریباً 0.10 سے 0.11 ڈالر فی واٹ کی سطح پر نسبتاً مستحکم دکھائی دیتی ہیں۔ قیمتوں میں وہ غیر معمولی کمی، جس نے سولر کی پہلی لہر کو تقویت دی تھی، اب دوبارہ حاصل کرنا مشکل ہوتی جارہی ہے۔ بیٹریوں کی صورتحال مختلف ہے۔ ان کی قیمتیں پہلے ہی تاریخی طور پر کم سطح پر ہیں، جبکہ سیل کی کیمسٹری، پیداواری پیمانے، توانائی کی کثافت اور بیٹری مینجمنٹ سسٹمز میں بہتری قیمتوں میں مزید کمی کی گنجائش پیدا کررہی ہے۔
یہ ایک طاقتور امتزاج تشکیل دیتا ہے۔ سولر بجلی پیدا کرنے کی لاگت پہلے ہی اتنی کم ہوچکی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو اختیار کرنا انتہائی پرکشش بن گیا ہے۔ اب توانائی ذخیرہ کرنے کی گرتی ہوئی لاگت اس بجلی کو اس وقت استعمال کرنا بھی زیادہ ممکن بنا رہی ہے جب حقیقت میں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔
ضوابط اس راستے کو تبدیل کرسکتے ہیں، لیکن ممکن ہے کہ منزل نہ بدلے۔
پرانے نیٹ میٹرنگ نظام کی جگہ مؤثر طور پر ایک نئے مجوزہ نظام نے لے لی ہے، جس کے تحت اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرنے کی معاشی قدر پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔ اس سے روایتی گرڈ سے منسلک سولر نظام کی ترقی کی رفتار میں کسی حد تک کمی آنی چاہیے۔ تاہم اس سے بیٹریوں کے حق میں دلیل بھی مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔
اگر اضافی سولر بجلی گرڈ کو فراہم کرنا کم فائدہ مند ہوجائے تو اسے خود استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند ہوجاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پرانے نیٹ میٹرنگ ماڈل کا خاتمہ سولر انقلاب کے خاتمے کی علامت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ اس کے اگلے مرحلے کو تیز کرسکتا ہے۔
اب بجلی کی طلب محض معاشی ترقی، درجہ حرارت اور صنعتی سرگرمی کا نتیجہ نہیں رہی۔ لاکھوں صارفین خود بجلی پیدا کرنے اور اسے تیزی سے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حاصل کررہے ہیں۔ دن کے مختلف اوقات میں بجلی کی طلب کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے۔ شام کے وقت بجلی کی طلب کا عروج، جو کبھی نظام کی ایک نسبتاً قابل پیش گوئی خصوصیت تھا، اب تیزی سے گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی اور تقسیم شدہ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کے درمیان مقابلے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
منصوبہ سازوں کے لیے یہ مسئلہ محض اس بات کی پیش گوئی کرنے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے کہ کتنے میگاواٹ سولر نصب کیے جائیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس سولر بجلی کا کتنا حصہ گرڈ پر منحصر رہے گا، کتنی بجلی بیٹریوں کے ساتھ منسلک ہوگی، یہ بیٹریاں کب چارج اور ڈسچارج ہوں گی، اور اس کا نیٹ ورک کے استعمال اور روایتی بجلی پیدا کرنے والے نظام پر کیا اثر پڑے گا۔
پاکستان سولر کی پہلی لہر کی وسعت کو سمجھنے میں تاخیر کرچکا ہے۔ وہ توانائی ذخیرہ کرنے کے معاملے میں اس غلطی کو دوبارہ دہرانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگلی بڑی تبدیلی اب دروازہ کھٹکھٹا نہیں رہی۔ وہ پہلے ہی مرکزی دروازے سے داخل ہورہی ہے۔ اب چیلنج یہ ہے کہ مارکیٹ ایک بار پھر منصوبہ بندی کو غیر متعلق بنادے، اس سے پہلے ہی اس کے لیے منصوبہ بندی کرلی جائے۔





















Comments