BR100 Increased By (0.07%)
BR30 Increased By (0.14%)
KSE100 Decreased By (-0.01%)
KSE30 Decreased By (-0.01%)
BAFL 55.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.57%)
BIPL 24.68 Increased By ▲ 0.04 (0.16%)
BOP 29.35 Increased By ▲ 0.10 (0.34%)
CNERGY 12.50 Increased By ▲ 0.11 (0.89%)
DFML 16.79 Increased By ▲ 0.19 (1.14%)
DGKC 185.40 Decreased By ▼ -0.12 (-0.06%)
FABL 92.70 Increased By ▲ 0.03 (0.03%)
FCCL 52.37 Increased By ▲ 0.30 (0.58%)
FFL 14.10 Increased By ▲ 0.09 (0.64%)
GGL 19.25 Increased By ▲ 0.14 (0.73%)
HBL 299.00 Decreased By ▼ -0.86 (-0.29%)
HUBC 200.00 Increased By ▲ 0.33 (0.17%)
HUMNL 9.40 Increased By ▲ 0.09 (0.97%)
KEL 5.99 Increased By ▲ 0.03 (0.5%)
LOTCHEM 26.40 Decreased By ▼ -0.20 (-0.75%)
MLCF 91.02 Increased By ▲ 0.07 (0.08%)
OGDC 308.80 Increased By ▲ 0.14 (0.05%)
PAEL 33.94 Increased By ▲ 0.21 (0.62%)
PIBTL 13.58 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 237.67 Increased By ▲ 1.06 (0.45%)
PPL 218.00 Decreased By ▼ -0.35 (-0.16%)
PRL 91.82 Increased By ▲ 0.70 (0.77%)
SNGP 91.56 Increased By ▲ 0.32 (0.35%)
SSGC 23.17 Increased By ▲ 0.13 (0.56%)
TELE 7.23 Increased By ▲ 0.06 (0.84%)
TPLP 12.13 Increased By ▲ 0.33 (2.8%)
TRG 56.00 Increased By ▲ 0.78 (1.41%)
UNITY 7.72 Increased By ▲ 0.07 (0.92%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)
کاروبار اور معیشت

چھوٹے برآمدکنندگان کیلئے قرضوں کا تحفظ اور مالی معاونت بڑھانے پر زور

  • وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سی ای او ایگزم بینک شہباز ایچ سید کی ملاقات
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستانی برآمدکنندگان کو نئی منڈیوں تک رسائی، ادائیگیوں کے خطرات سے نمٹنے اور کاروبار کو وسعت دینے میں مدد کیلئے ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس اور مالی معاونت کی سہولتیں زیادہ وسیع پیمانے پر فراہم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے بالخصوص چھوٹے کاروباری اداروں اور پہلی بار برآمدات کرنے والوں کی ضروریات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بات وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے سی ای او ایگزم بینک شہباز ایچ سید سے ملاقات کے دوران کہی جس میں سیکریٹری تجارت جواد پال بھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں برآمدکنندگان کے لیے قرض اور انشورنس کی سہولتیں بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

جام کمال نے زور دیا کہ برآمدات کے فروغ کے لیے معاونت ان نئے کاروبار اور چھوٹے پیداواری اداروں تک بھی پہنچنی چاہیے جو عالمی منڈیوں میں قدم جمانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمائے تک رسائی، عملی رہنمائی اور مناسب رسک پروٹیکشن کی سہولتیں ان کاروباری اداروں کو مستحکم برآمدکنندگان بننے میں مدد دے سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ مواقع کی نشاندہی، کاروباری روابط کے فروغ اور بیرونِ ملک منڈیوں میں پاکستانی برآمدکنندگان کی معاونت کے لیے ایگزم بینک اور بیرونِ ملک تعینات پاکستان کے تجارتی و سرمایہ کاری افسران کے درمیان قریبی رابطہ کاری کی جائے۔ انہوں نے بینک کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مالی معاونت کے مواقع وسیع کرنے کے لیے بین الاقوامی برآمدی قرضوں کی ضمانت فراہم کرنے والے اداروں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کے امکانات بھی تلاش کرے۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے شہباز ایچ صید نے بتایا کہ ایگزم بینک کی برآمدی قرضوں کی انشورنس بیرونِ ملک تجارتی لین دین سے وابستہ مخصوص تجارتی اور سیاسی خطرات کے خلاف برآمدکنندگان کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ان خطرات میں خریدار کی جانب سے ادائیگی میں ناکامی اور ایسے بیمہ شدہ واقعات شامل ہیں جن کے باعث ادائیگی یا درآمدی منڈیوں سے رقوم کی منتقلی ممکن نہ رہے۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بتایا کہ متعلقہ شرائط اور جائزے سے مشروط، انشورنس کے تحت بیمہ شدہ خطرے کے 90 فیصد تک حصے کا تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے جبکہ خطرے کا ایک حصہ برآمدکنندگان کو خود برداشت کرنا ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جائزے میں بیرونِ ملک خریدار کی مالی ساکھ اور متعلقہ منڈی کے خطرات کا جائزہ لیا جاتا ہے جس کے باعث نئے برآمدکنندگان بھی انشورنس کوریج حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

شہباز ایچ صید نے برآمدی قرضوں کی انشورنس کے ممکنہ شراکت داروں اور تقسیم کار ذرائع کے طور پر کمرشل بینکوں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بیمہ شدہ برآمدی واجبات کی بنیاد پر بینکوں سے مالی معاونت حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار بینکوں کی شرائط اور متعلقہ ضابطہ جاتی فریم ورک پر ہوگا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے کہا کہ انشورنس کو قرض کی سہولت سے منسلک کرنے پر توجہ دی جائے۔ کمرشل بینکوں کے تعاون سے برآمدکنندگان کی سرمائے تک رسائی بہتر ہو سکتی ہے۔ملاقات میں فوڈ ایگ میں برآمدکنندگان کو قرض اور انشورنس سے متعلق رہنمائی فراہم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

اجلاس میں چھوٹے کاروباری اداروں کی مالی ضروریات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں بڑے برآمدکنندگان کو اشیا فراہم کرنے والے کاروبار بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری اور قلیل مدتی ورکنگ کیپیٹل کی فراہمی، دونوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

جام کمال نے ایگزم بینک پر زور دیا کہ وہ فوڈ ایگ سمیت تجارتی نمائشوں میں زیادہ فعال طور پر شرکت کرے جہاں پاکستانی برآمدکنندگان اور بین الاقوامی خریداروں کو انشورنس اور مالی معاونت کے دستیاب مواقع سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ شرکا نے بینک کی دستیاب مصنوعات سے آگاہی اور اس کے ساتھ روابط کو فروغ دینے کے لیے خصوصی تکنیکی نشستوں کے انعقاد پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ نمائشوں کے پروگرام میں کاروباری اداروں کے درمیان ملاقاتوں اور تجارتی روابط کے لیے مناسب وقت مختص کیا جانا چاہیے۔ اجلاس میں نمائش کی افتتاحی یا اختتامی تقریب میں وزیراعظم کو مدعو کرنے کے امکانات پر بھی مزید غور کرنے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔

Comments

200 حروف