ایس ایم ایز کیلئے ڈیجیٹل پورٹل نومبر کے آخر تک شروع ہونے کا امکان
- مجوزہ ایس ایم ای پورٹل کاروباری اداروں کو بینکوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے قرضوں سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کرے گا
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے نومبر کے آخر تک ایک ڈیجیٹل پورٹل شروع کرنے کی ہدایت کردی، جس کا مقصد بینک فنانسنگ تک رسائی آسان بنانا اور قرضوں سمیت دیگر کاروباری سہولیات کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن بنانا ہے۔
وزیراعظم نے ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ایز کے شعبوں کو قرضوں کی فراہمی سے متعلق اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے حکام کو قرضوں کے اجرا میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور قرض دینے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
سرکاری بریفنگ کے مطابق مجوزہ ایس ایم ای پورٹل کاروباری اداروں کو بینکوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے قرضوں سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کرے گا، جن میں لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) اور دیگر کاروباری سہولیات کی صورتحال بھی شامل ہوگی۔
وزیراعظم نے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کو ایس ایم ایز کی استعداد بہتر بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور کاروباری اداروں کو عالمی ویلیو چینز کا حصہ بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت اب تک 71 ہزار 690 ہاؤسنگ قرضے، مجموعی طور پر 426 ارب روپے، منظور کیے جاچکے ہیں، جبکہ 13 ہزار 214 قرض لینے والوں کو 76 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ رواں سال 1 لاکھ 25 ہزار رہائشی یونٹس کے لیے 700 ارب روپے کی ہاؤسنگ فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے ہاؤسنگ فنانسنگ میں نیشنل بینک آف پاکستان کی 76 فیصد منظوری کی شرح کو سراہتے ہوئے نئے صدر کو بینک کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بہترین ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مطلوبہ نتائج نہ دینے والے ملازمین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا۔
انہوں نے پنجاب کے ماڈل کے مطابق دیگر صوبوں میں زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سے بینکوں کے لیے ہاؤسنگ قرضوں کی کارروائی آسان ہوگی اور نظام میں شفافیت بھی بڑھے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی قرضوں کا حجم اس وقت 1,352 ارب روپے ہے، جس سے 34 لاکھ 55 ہزار افراد مستفید ہورہے ہیں۔ حکومت نے جون 2027 تک زرعی قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والوں کی تعداد 45 لاکھ تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
ایس ایم ای شعبے کو اب تک 3 لاکھ 50 ہزار کاروباری اداروں کے لیے 1,137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں۔ حکومت کا ہدف ہے کہ جون 2027 تک ایس ایم ای قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور قرض لینے والے کاروباری اداروں کی تعداد 5 لاکھ 65 ہزار تک بڑھائی جائے۔
حکام نے اجلاس کو ایس ایم ایز کے لیے مالیاتی رسائی بہتر بنانے، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ اجلاس میں ایس ایم ایز سے متعلق نظرثانی شدہ ضوابط، ہاؤسنگ فنانس کے طریقہ کار کو آسان بنانے، قرضوں میں مشترکہ رسک شیئرنگ، سپلائی چین فنانسنگ کے فروغ اور تصدیق شدہ ڈیٹا کے اشتراک پر بھی بریفنگ دی گئی۔
حکام کے مطابق چھوٹے قرضوں کے خواہشمند افراد کو بینکوں کی بار بار شاخوں کے چکر سے بچانے کے لیے ڈیجیٹل نظام بھی متعارف کرائے جارہے ہیں۔
اجلاس میں نیشنل بینک آف پاکستان اور فرسٹ ویمن بینک کی قرضوں کی فراہمی کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب، ریاض پیرزادہ اور عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments