ایس ایم ای فنانسنگ کا ہدف 2 ہزار ارب روپے مقرر
- ممکنہ قرض لینے والوں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار تک بڑھانے کا ہدف مقرر کردیا گیا
وفاقی حکومت نے جون 2028 تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے فنانسنگ تقریباً دگنی کرکے 2 ہزار ارب روپے اور ممکنہ قرض لینے والوں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار تک بڑھانے کا ہدف مقرر کردیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے بدھ کو رسائی برائے مالیات اسٹیئرنگ کمیٹی کے پانچویں اجلاس کی صدارت کی، جس میں ترجیحی شعبوں کے لیے مالیاتی سہولیات تک رسائی بڑھانے میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ جون 2026 سے ستمبر 2026 کے دوران ایس ایم ای فنانسنگ میں 23 ارب روپے کا اضافہ ہوا اورواجب الادا قرض 1.114 کھرب روپے سے بڑھ کر 1.137 کھرب روپے سے تجاوز کرگیا، جبکہ قرض لینے والوں کی تعداد 25 ہزار سے زائد اضافے کے بعد تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار 862 ہوگئی۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ جون 2028 تک فنانسنگ 2 کھرب روپے اور قرض لینے والوں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار تک پہنچانے کے ہدف کے حصول کے لیے رفتار مزید تیز کی جائے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایس ایم ای فنانسنگ میں اضافے کے لیے کمرشل بینکوں، مائیکروفنانس اداروں اور دیگر مالیاتی خدمات فراہم کرنے والوں کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مائیکروفنانس اداروں کو مساوی مواقع فراہم کرنے اور ان کی رسائی بڑھانے کے لیے مناسب حکومتی معاونت اور مالیاتی طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں زرعی فنانسنگ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ زرعی قرضوں کی واجب الادا رقم جون میں 1.26 کھرب روپے سے بڑھ کر ستمبر کے اختتام تک 1.35 کھرب روپے ہوگئی، جبکہ قرض لینے والوں کی تعداد 19 لاکھ 63 ہزار 303 کے اضافے سے تقریباً 34 لاکھ 60 ہزار ہوگئی۔ زرعی قرض اسکیم کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو 5 ہزار 563 بغیر ضمانت قرضے، مجموعی طور پر 2.1 ارب روپے، فراہم کیے جاچکے ہیں۔ اجلاس میں مویشی پالنے اور ماہی گیری سمیت کم سہولت یافتہ شعبوں کے لیے فنانسنگ بڑھانے پر زور دیا گیا۔
ہاؤسنگ فنانس بھی جون کے 323 ارب روپے سے بڑھ کر ستمبر میں 426 ارب روپے ہوگئی، جبکہ قرض لینے والوں کی تعداد 2 لاکھ 31 ہزار 550 تک پہنچ گئی۔ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 13 ہزار 214 افراد کو 76 ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ 350 ارب روپے کے منظور شدہ قرضے اجرا کے لیے تیار ہیں۔ وزیر خزانہ نے خریداروں کے ساتھ تعمیراتی شعبے کے لیے بھی مؤثر فنانسنگ فریم ورک تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن اسکیم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ستمبر کے اختتام تک 17 ہزار 262 درخواستیں منظور ہوئیں، جن کی مالیت 2.54 ارب روپے ہے، جبکہ 4 ہزار 839 قرضے، 975 ملین روپے مالیت کے، جاری کیے گئے اور 2 ہزار 725 برقی گاڑیاں صارفین کو فراہم کی گئیں۔
وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ حکومتی معاونت سے چلنے والی فنانسنگ اسکیمیں تجارتی بنیادوں پر مستحکم اور حقیقی ضرورت کے مطابق ہدفی رہیں، جبکہ بینک، مائیکروفنانس ادارے، ریگولیٹرز اور نجی شعبہ مشترکہ طور پر مالیاتی رسائی میں حائل رکاوٹیں دور کریں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments