اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس 1600 پوائنٹس سے زائد گرگیا
- صبح 11:45 بجے بینچ مارک انڈیکس166,554.66 پوائنٹس پر آگیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے ابتدائی اوقات میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1600 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
پیر کو صبح 11:45 بجے بینچ مارک انڈیکس 1,600.83 پوائنٹس یا 0.95 فیصد کی کمی سے 166,554.66 پوائنٹس پر آگیا۔
تجزیہ کاروں نے فروخت کے دباؤ کی وجہ عالمی اور ملکی دونوں عوامل کو قرار دیا۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سیاسی غیریقینی صورتحال کے ساتھ بلند تیل کی قیمتیں سرمایہ کاروں کے جذبات پر اثرانداز ہورہی ہیں اور مارکیٹ بھر میں فروخت کے دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاری سیاسی بے یقینی نے محتاط طرزِعمل کو مزید تقویت دی ہے جبکہ تیل کی بلند قیمتیں افراط زر اور معاشی استحکام سے متعلق خدشات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے بھی اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ مارکیٹ کی سمت کا تعین عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کی سمت اور ملکی سطح پر سیاسی بے یقینی ختم ہونے یا برقرار رہنے سے ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کہ س کے بعد سب سے اہم محرک مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ کی سمت ہوگی کہ آیا پالیسی ریٹ برقرار رکھا جاتا ہے یا اس میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔
اہم شعبوں جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، پاور جنریشن اور ریفائنری شامل ہیں میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا۔ پی آر ایل، این آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، ایچ بی ایل، ایم ای بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل بھی منفی زون میں دکھائی دیے ۔
گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو نمایاں دھچکا لگا۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے، عالمی سطح پر خودمختار قرضوں کی فکسڈ انکم مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت کے رجحان جس کے نتیجے میں امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز 2002 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اور ملکی تجارتی خسارے میں اضافے نے سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی صلاحیت کو متاثر کیا۔ اس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 2,609.74 پوائنٹس یا 1.5 فیصد کمی سے 168,155.48 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر پیر کو اسٹاک مارکیٹوں میں کاروبار کا آغاز مضبوط رہا جبکہ ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ہوئی اور بانڈز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ امریکی روزگار کے توقعات سے کمزور اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے جارحانہ پالیسی سخت کرنے کے امکانات پر اپنی شرطیں کم کردیں۔
ایشیا میں کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں، چین، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں تعطیلات کے باعث مارکیٹوں نے جمعہ کو وال اسٹریٹ کی سرگرمیوں سے سمت متعین کی۔
گزشتہ ہفتے جاری اعدادوشمار کے مطابق ستمبر میں امریکا میں روزگار کی شرح میں توقعات سے زیادہ سست روی ریکارڈ کی گئی جبکہ اس سے قبل کے دو ماہ کے نان فارم پے رولز کے اعدادوشمار میں بھی نمایاں کمی کی گئی۔ ان اعدادوشمار کے باعث رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے ایک اور شرح سود میں اضافے کا امکان تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق سرمایہ کار اب رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا صرف 22 فیصد امکان ظاہر کررہے ہیں جو ایک ہفتہ قبل 64 فیصد تھا۔
رواں ماہ فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافہ نہ کیے جانے کے بڑھتے امکانات سے جاپان کا نکی انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 2 فیصد بلند ہوا جبکہ آسٹریلوی اسٹاکس میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا اور ایم ایس سی آئی کا جاپان سے باہر ایشیا پیسیفک شیئرز کا وسیع ترین انڈیکس 0.15 فیصد بڑھ گیا۔
نیسڈیک فیوچرز میں 0.3 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ یورو اسٹاکس 50 فیوچرز 0.3 فیصد اور ایف ٹی ایس ای فیوچرز 0.4 فیصد بلند ہوئے۔



















Comments