BR100 Increased By (0.42%)
BR30 Increased By (0.87%)
KSE100 Increased By (0.25%)
KSE30 Increased By (0.33%)
BAFL 56.01 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
BIPL 24.60 Increased By ▲ 0.10 (0.41%)
BOP 28.72 Decreased By ▼ -0.17 (-0.59%)
CNERGY 12.30 Increased By ▲ 0.09 (0.74%)
DFML 16.35 Decreased By ▼ -0.36 (-2.15%)
DGKC 184.90 Increased By ▲ 1.90 (1.04%)
FABL 92.67 Increased By ▲ 0.33 (0.36%)
FCCL 50.62 Increased By ▲ 0.62 (1.24%)
FFL 13.89 Increased By ▲ 0.07 (0.51%)
GGL 18.61 Decreased By ▼ -0.06 (-0.32%)
HBL 297.50 Increased By ▲ 2.29 (0.78%)
HUBC 197.70 Increased By ▲ 2.13 (1.09%)
HUMNL 9.40 Increased By ▲ 0.11 (1.18%)
KEL 5.52 Decreased By ▼ -0.10 (-1.78%)
LOTCHEM 25.39 Increased By ▲ 0.09 (0.36%)
MLCF 89.95 Increased By ▲ 1.71 (1.94%)
OGDC 314.00 Increased By ▲ 3.66 (1.18%)
PAEL 33.10 Increased By ▲ 0.09 (0.27%)
PIBTL 13.42 Increased By ▲ 0.23 (1.74%)
PIOC 232.98 Increased By ▲ 1.97 (0.85%)
PPL 219.00 Increased By ▲ 2.52 (1.16%)
PRL 87.10 Decreased By ▼ -0.32 (-0.37%)
SNGP 87.95 Decreased By ▼ -0.12 (-0.14%)
SSGC 22.59 Increased By ▲ 0.11 (0.49%)
TELE 7.07 Increased By ▲ 0.10 (1.43%)
TPLP 11.58 Decreased By ▼ -0.02 (-0.17%)
TRG 52.80 Increased By ▲ 1.35 (2.62%)
UNITY 7.72 Decreased By ▼ -0.02 (-0.26%)
WTL 1.00 Increased By ▲ 0.01 (1.01%)
اداریہ

تحمل کی ضرورت

  • سیاست دان جانتے ہیں کہ مشکل معاملات اکثر لین دین اور باہمی سمجھوتے کے ذریعے حل ہوتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی حکومت کی جانب سے غیر معمولی اقدامات کا سہارا لینے کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ ایک نہایت خوش آئند قدم تھا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کو مارچ کی تیاری اور پہلے ہی کشیدہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کسی بھی صورت میں حریف سیاسی قوتوں کے درمیان ایک اور محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ بات چیت سے ہر اختلاف ختم نہ بھی ہو، تاہم کشیدگی بڑھانے کے مقابلے میں یہ بہتر راستہ فراہم کرتی ہے۔

ملاقاتوں سے قبل ہونے والی پیش رفت نے واضح کردیا تھا کہ سمجھوتے کی گنجائش کس قدر محدود ہوچکی تھی۔ کثیر الجماعتی اپوزیشن اجلاس کے بعد اپوزیشن کے سینئر رہنماؤں نے مجوزہ احتجاج اور ان اطلاعات پر سخت مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور کررہی ہے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم سے وزیراعظم آفس یا وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کے امکان کو مسترد کردیا، جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے کہا کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دباؤ کے تحت ہونے والی بات چیت کو قبول نہیں کرے گی۔

اسی دوران پی ٹی آئی بھی وفاقی وزرا اور حکومتی ترجمانوں کی جانب سے بار بار دی جانے والی انتہائی اقدامات کی دھمکیوں کے ممکنہ نتائج کے لیے خود کو تیار کرتی دکھائی دی۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ پارٹی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

یہ عین وہ موقع تھا جب سیاسی بصیرت کی ضرورت تھی۔ حکومت خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے غیر معمولی آئینی اقدامات پر کھلے عام بات کررہی تھی، جبکہ پی ٹی آئی اپنا احتجاج جاری رکھنے کے عزم پر قائم تھی۔

تاہم کسی بھی فریق نے مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا تھا اور بعد کی پیش رفت نے بالآخر ایک اہم موقع پیدا کردیا: حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کی ملاقات پر اتفاق ہوگیا۔ لیکن افسوس کہ دو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

مذاکرات کی ناکامی کے باوجود اختلاف کو محاذ آرائی میں تبدیل ہونا ضروری نہیں۔ سیاسی قیادت کا اصل امتحان اختلافات کو اس طرح سنبھالنے کی صلاحیت ہے کہ انہیں امن، استحکام یا جمہوری اداروں کے لیے خطرہ بننے سے روکا جاسکے۔

پیچیدہ سیاسی تنازعات شاذ و نادر ہی اس وقت حل ہوتے ہیں جب ایک فریق اپنی تمام خواہشات منوانے پر اصرار کرے۔ مذاکرات میں لازماً ردوبدل، مفاہمت اور سمجھوتہ شامل ہوتا ہے۔ یہ جمہوری سیاست کے بنیادی عناصر ہیں، کمزوری کی علامت نہیں۔

حکومت فوری طور پر سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے ایک اور اہم قدم بھی اٹھا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی کے طبی علاج اور ان تک ان کے خاندان کی رسائی سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد سے ان کی قید سے متعلق سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

عدالت نے ہدایت کی تھی کہ انہیں معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، جبکہ ان کے خاندان کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتوں کا معاملہ بھی تنازع میں نمایاں طور پر زیر بحث رہا ہے۔ حکومت نے اسپتال منتقلی کے حکم پر جو بھی قانونی اعتراضات اٹھائے ہوں، عدالتی ہدایات کی پاسداری اہم ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے مطلوب طبی علاج اور خاندان تک رسائی کی سہولت فراہم کرنے سے کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ختم ہوسکتی ہے اور سیاسی مذاکرات کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ دونوں فریقوں، خصوصاً حکومت، کو محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے، تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کے لیے بغیر اپنی سبکی محسوس کیے کشیدگی کے دہانے سے پیچھے ہٹنا آسان ہوسکے۔

امید یہی ہے کہ مذاکرات کی ناکامی ایک اور محاذ آرائی کا باعث نہیں بنے گی۔ پاکستان سیاسی رسہ کشی بہت دیکھ چکا ہے۔ سیاست دان جانتے ہیں کہ مشکل معاملات اکثر لین دین اور باہمی سمجھوتے کے ذریعے حل ہوتے ہیں، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کے بہترین تقاضوں کو عملی جامہ پہنانے کی خواہش بھی موجود ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف