تحمل کی ضرورت
- سیاست دان جانتے ہیں کہ مشکل معاملات اکثر لین دین اور باہمی سمجھوتے کے ذریعے حل ہوتے ہیں
وفاقی حکومت کی جانب سے غیر معمولی اقدامات کا سہارا لینے کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ ایک نہایت خوش آئند قدم تھا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کو مارچ کی تیاری اور پہلے ہی کشیدہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کسی بھی صورت میں حریف سیاسی قوتوں کے درمیان ایک اور محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ بات چیت سے ہر اختلاف ختم نہ بھی ہو، تاہم کشیدگی بڑھانے کے مقابلے میں یہ بہتر راستہ فراہم کرتی ہے۔
ملاقاتوں سے قبل ہونے والی پیش رفت نے واضح کردیا تھا کہ سمجھوتے کی گنجائش کس قدر محدود ہوچکی تھی۔ کثیر الجماعتی اپوزیشن اجلاس کے بعد اپوزیشن کے سینئر رہنماؤں نے مجوزہ احتجاج اور ان اطلاعات پر سخت مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور کررہی ہے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم سے وزیراعظم آفس یا وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کے امکان کو مسترد کردیا، جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے کہا کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دباؤ کے تحت ہونے والی بات چیت کو قبول نہیں کرے گی۔
اسی دوران پی ٹی آئی بھی وفاقی وزرا اور حکومتی ترجمانوں کی جانب سے بار بار دی جانے والی انتہائی اقدامات کی دھمکیوں کے ممکنہ نتائج کے لیے خود کو تیار کرتی دکھائی دی۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ پارٹی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
یہ عین وہ موقع تھا جب سیاسی بصیرت کی ضرورت تھی۔ حکومت خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے غیر معمولی آئینی اقدامات پر کھلے عام بات کررہی تھی، جبکہ پی ٹی آئی اپنا احتجاج جاری رکھنے کے عزم پر قائم تھی۔
تاہم کسی بھی فریق نے مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا تھا اور بعد کی پیش رفت نے بالآخر ایک اہم موقع پیدا کردیا: حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کی ملاقات پر اتفاق ہوگیا۔ لیکن افسوس کہ دو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
مذاکرات کی ناکامی کے باوجود اختلاف کو محاذ آرائی میں تبدیل ہونا ضروری نہیں۔ سیاسی قیادت کا اصل امتحان اختلافات کو اس طرح سنبھالنے کی صلاحیت ہے کہ انہیں امن، استحکام یا جمہوری اداروں کے لیے خطرہ بننے سے روکا جاسکے۔
پیچیدہ سیاسی تنازعات شاذ و نادر ہی اس وقت حل ہوتے ہیں جب ایک فریق اپنی تمام خواہشات منوانے پر اصرار کرے۔ مذاکرات میں لازماً ردوبدل، مفاہمت اور سمجھوتہ شامل ہوتا ہے۔ یہ جمہوری سیاست کے بنیادی عناصر ہیں، کمزوری کی علامت نہیں۔
حکومت فوری طور پر سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے ایک اور اہم قدم بھی اٹھا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی کے طبی علاج اور ان تک ان کے خاندان کی رسائی سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد سے ان کی قید سے متعلق سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
عدالت نے ہدایت کی تھی کہ انہیں معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، جبکہ ان کے خاندان کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتوں کا معاملہ بھی تنازع میں نمایاں طور پر زیر بحث رہا ہے۔ حکومت نے اسپتال منتقلی کے حکم پر جو بھی قانونی اعتراضات اٹھائے ہوں، عدالتی ہدایات کی پاسداری اہم ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے مطلوب طبی علاج اور خاندان تک رسائی کی سہولت فراہم کرنے سے کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ختم ہوسکتی ہے اور سیاسی مذاکرات کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ دونوں فریقوں، خصوصاً حکومت، کو محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے، تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کے لیے بغیر اپنی سبکی محسوس کیے کشیدگی کے دہانے سے پیچھے ہٹنا آسان ہوسکے۔
امید یہی ہے کہ مذاکرات کی ناکامی ایک اور محاذ آرائی کا باعث نہیں بنے گی۔ پاکستان سیاسی رسہ کشی بہت دیکھ چکا ہے۔ سیاست دان جانتے ہیں کہ مشکل معاملات اکثر لین دین اور باہمی سمجھوتے کے ذریعے حل ہوتے ہیں، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کے بہترین تقاضوں کو عملی جامہ پہنانے کی خواہش بھی موجود ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026





















Comments