BR100 Decreased By (-0.54%)
BR30 Decreased By (-1%)
KSE100 Decreased By (-0.44%)
KSE30 Decreased By (-0.41%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.24 Decreased By ▼ -0.11 (-0.36%)
CNERGY 13.00 Decreased By ▼ -0.12 (-0.91%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.29 Decreased By ▼ -4.16 (-2.16%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.30 Decreased By ▼ -0.49 (-0.93%)
FFL 14.58 Decreased By ▼ -0.14 (-0.95%)
GGL 19.26 Decreased By ▼ -0.30 (-1.53%)
HBL 305.52 Decreased By ▼ -0.58 (-0.19%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.32 Decreased By ▼ -0.14 (-0.53%)
MLCF 91.68 Decreased By ▼ -1.48 (-1.59%)
OGDC 315.00 Decreased By ▼ -1.73 (-0.55%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 240.89 Decreased By ▼ -2.32 (-0.95%)
PPL 223.00 Decreased By ▼ -3.91 (-1.72%)
PRL 91.50 Decreased By ▼ -1.52 (-1.63%)
SNGP 91.00 Decreased By ▼ -0.84 (-0.91%)
SSGC 23.39 Decreased By ▼ -0.42 (-1.76%)
TELE 7.68 Decreased By ▼ -0.12 (-1.54%)
TPLP 12.66 Decreased By ▼ -0.31 (-2.39%)
TRG 56.44 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

امریکا، ایران آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے مرحلہ وار معاہدے پر غور کر رہے ہیں، ذرائع

  • نیویارک میں امریکا، ایران مذاکرات میں مرحلہ وار معاہدے کی کوشش، آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی کی تجویز؛ دونوں جانب اپنا دباؤ برقرار رکھنے کی خواہش سے معاملہ پیچیدہ
شائع اپ ڈیٹ

نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ سے نکلنے کے لیے مرحلہ وار راستے پر غور کر رہے ہیں، جس کے تحت تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا اور واشنگٹن ایران کی معاشی ناکہ بندی ختم کرے گا، یہ بات مذاکرات سے واقف ذرائع نے بتائی ہے۔

آبنائے ہرمز امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً 7 ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کی کوششوں میں مرکزی سودے بازی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ایران ایسی امریکی ناکہ بندی سے ریلیف چاہتا ہے جو اس کی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے، جبکہ واشنگٹن عالمی تیل کی ترسیل کے اس راستے سے بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت چاہتا ہے جسے تہران نے اس وقت بند کر رکھا ہے۔

مذاکرات کو ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق پہلے اپنے دباؤ کے ذریعے سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں۔ دو ایرانی ذرائع، دو علاقائی عہدیداروں اور دو مغربی سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ تاہم ایران کے موقف کے پسِ پشت طویل محاذ آرائی کی معاشی قیمت کا ادراک بھی موجود ہے۔

ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ تعطل ختم کرنے کا سب سے قابلِ عمل طریقہ مرحلہ وار انتظام ہوسکتا ہے، جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی اجازت دے اور اس کے بدلے امریکا اپنی معاشی ناکہ بندی ختم کرے، جبکہ تہران کو منجمد اثاثوں تک رسائی بھی مل سکتی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر کہا، ’’آگے بڑھنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ بحران کو مرحلہ وار حل کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں ناکہ بندی ختم اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے۔‘‘

اس کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور عارضی حل قبول کرنا ہوگا، کیونکہ اس سے قبل جولائی میں طے پانے والی مفاہمت ناکام ہوگئی تھی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کاروں کو درپیش مرکزی چیلنج صرف معاہدے کا خاکہ تیار کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے کسی بھی رعایت کو اتنا پائیدار سمجھیں کہ وہ برقرار رہ سکے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ 3 نومبر کو کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکا اور ایران کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ یورپ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ایرانیوں کے ’’مطالبات کی فہرست بہت طویل ہے‘‘۔

وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس خبر پر تبصرے کے لیے درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

امریکا کے سابق مذاکرات کار ڈینس راس نے کہا کہ انہیں انتخابات سے قبل معاہدہ طے پانے کا امکان صرف 30 فیصد نظر آتا ہے، تاہم دونوں فریقوں کے پاس وسط مدتی انتخابات سے پہلے معاہدہ کرنے کی وجوہات انتخابات کے بعد کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوسکتی ہیں۔

راس نے کہا، ’’اصل چیز جو ایرانیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے وہ ناکہ بندی ہے۔ یہ ان کا گلا گھونٹ رہی ہے۔‘‘

وسط مدتی انتخابات سے قبل معاہدہ طے پانا ٹرمپ کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے سے خلیج میں کشیدگی کم، تیل کی قیمتیں قابو میں اور سیاسی طور پر حساس امریکی پٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایران کے لیے انتہائی ضروری معاشی ریلیف حاصل کرنے کے امکانات اس وقت زیادہ ہوسکتے ہیں جب ٹرمپ کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے سیاسی ترغیب بھی زیادہ ہو۔

راس نے کہا کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹرمپ کو کم سیاسی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے اور وہ دباؤ بڑھانے یا فوجی راستہ اختیار کرنے پر زیادہ آمادہ ہوسکتے ہیں۔

دباؤ کا ذریعہ ہی رکاوٹ؟

امریکا اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے والا دباؤ کا ذریعہ ہی سمجھوتے کو مزید مشکل بھی بنا سکتا ہے۔

واشنگٹن کے پاس وہ دباؤ ہے جو تہران کو سب سے زیادہ متاثر کر رہا ہے، جبکہ تہران کے پاس توانائی کی ایک اہم گزرگاہ تک رسائی کا کنٹرول ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی فریق اس دباؤ کے ذریعے سے کسی ٹھوس فائدے کے بدلے کے بغیر دستبردار ہونا نہیں چاہتا۔

اس کا مطلب ہے کہ وسط مدتی انتخابات سفارت کاری کی آخری تاریخ سے زیادہ ان حالات کو برقرار رکھنے کی آخری حد ہوسکتے ہیں جو سفارتی کوششوں کو ممکن بناتے ہیں۔ اگر واشنگٹن اور تہران وسط مدتی انتخابات سے قبل اپنے دباؤ کے ذرائع کو معاہدے میں تبدیل نہ کرسکے تو کشیدگی بڑھنے کے خطرے کے ساتھ سفارتی گنجائش بھی محدود ہوسکتی ہے۔

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ سفارتی راستہ تلاش کرنے کے باوجود تہران واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکان کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ معاشی ناکہ بندی اور طاقت کے استعمال کی دھمکی کو دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

ایران کے سینئر عہدیدار نے کہا، ’’ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔ امریکی جانتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے، لیکن ان کے حد سے زیادہ مطالبات کے باعث سفارت کاری کے ذریعے اس مسئلے کے حل کے امکانات انتہائی کم ہیں۔‘‘

علاقائی ذرائع نے بتایا کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ٹرانزٹ فیس کی ادائیگی کا مطالبہ مرکزی معاہدے سے نکال کر ایک ضمنی دستاویز میں شامل کرنے پر آمادہ ہے، کیونکہ ناکہ بندی ختم کرنا اب زیادہ فوری ترجیح بن چکا ہے۔

خلیجی ریاستوں نے ٹرانزٹ فیس کی ادائیگی کی تجویز مسترد کردی ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق کوئی بھی انتظام عارضی ہوگا اور اس کا مطلب ایران کے موقف سے باضابطہ دستبرداری نہیں ہوگا۔

امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے اور اس ناکہ بندی کے علاوہ نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں جس نے ایران کی تیل برآمدات کا گلا گھونٹ دیا ہے، جو زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

رواں ماہ امریکا نے ایران کی باقی ماندہ کمرشل ایئرلائنز اور ان کے معاون نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا، جس کا مقصد حکومت اور طاقتور پاسدارانِ انقلاب کو برقرار رکھنے والے معاشی وسائل منقطع کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کی معیشت ’’گل سڑ سکتی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا، ’’ایران کی بنیادی توجہ آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس عائد کرنے کے بجائے آبی گزرگاہ پر اپنا انتظامی کنٹرول برقرار رکھنے پر ہے۔ ایران ٹول کے معاملے کو مؤخر کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے، لیکن وہ آبنائے پر انتظامی کنٹرول سے دستبردار نہیں ہوگا۔‘‘

نیویارک میں جاری سفارتی کوششوں کے مرکز میں ایک بنیادی کشمکش موجود ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ دباؤ کے نتیجے میں ایران رعایتیں دے، تہران کا مؤقف ہے کہ رعایتیں دینے سے پہلے دباؤ ختم کیا جائے، جبکہ خلیجی ریاستیں چاہتی ہیں کہ تنازع حل ہو، لیکن خطے کی تزویراتی آبی گزرگاہوں کو مستقل طور پر سودے بازی کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔

طویل جنگ کے خدشات

نیویارک میں ٹرمپ کے ساتھ ایک الگ ملاقات کے دوران خلیجی رہنماؤں نے وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی حکمت عملی کے بارے میں وضاحت طلب کی، جس میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ اگر ایران مذاکرات کی طرف واپس آنے سے انکار کرے تو کیا امریکا دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرے گا۔

علاقائی ذرائع کے مطابق، خلیجی رہنماؤں نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کسی بھی کنٹرول کو اجتماعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال ہونی چاہیے اور اس تزویراتی آبی گزرگاہ کو خلیجی ریاستوں کے خلاف دباؤ ڈالنے کے ذریعے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

تاہم آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے انتباہات کے ساتھ ساتھ خلیجی رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی اور سیاسی عمل کے لیے بھرپور زور دیا ہے، جو خطے کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی مزید تنازع سے خود کو دور رکھا جائے۔

ابوظبی میں قائم تھنک ٹینک ایمریٹس پالیسی سینٹر کی صدر ابتسام الکُتبی نے کہا، ’’اب بھی یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا حتمی مقصد کیا ہے یا دباؤ کی مہم کے متبادل کے طور پر کیا راستہ اختیار کیا جائے گا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’اس کے برعکس، ایرانی جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ وہ واضح مقصد کے ساتھ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے خطے کے تزویراتی منظرنامے کو تبدیل کر رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن نے ابھی تک اپنا لائحہ عمل واضح نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے باب المندب کا حوالہ دیا جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔

یہ غیر یقینی صورتحال تہران کی حکمت عملی پر بھی اثرانداز ہورہی ہے۔ علاقائی تجزیہ کار اور اسرائیلی فوج کے سابق انٹیلی جنس افسر ڈینی سٹرینووچ نے کہا کہ نیویارک میں ہونے والے مذاکرات نے دونوں فریقوں کے بنیادی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور ایران اس وقت تک پیچھے ہٹنے کا امکان نہیں رکھتا جب تک اسے یہ یقین رہے کہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل وسیع تر کشیدگی سے بچنا چاہتے ہیں۔

ایران کے حوالے سے امریکا کے سابق مذاکرات کار ایلن ایئر نے کہا، ’’ناکہ بندی انہیں نقصان پہنچا رہی ہے، لیکن اپنے موقف میں نرمی لانے کے بجائے اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ انہیں کشیدگی بڑھانے پر مجبور کرے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اگر انہوں نے اپنے موقف میں نرمی دکھائی تو ان کا خاتمہ ہوجائے گا۔‘‘

مذاکرات سے واقف ایک مغربی عہدیدار نے مزید کہا، ’’ساری بات آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ہے۔ ہم سب کو اندرونِ ملک دباؤ کا سامنا ہے اور ایرانی یہ بات جانتے ہیں۔‘‘

Comments

200 حروف