BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.55%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 56.92 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.97 Decreased By ▼ -0.15 (-1.14%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.35 Decreased By ▼ -5.10 (-2.65%)
FABL 93.80 Decreased By ▼ -0.34 (-0.36%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.45 Decreased By ▼ -0.27 (-1.83%)
GGL 19.02 Decreased By ▼ -0.54 (-2.76%)
HBL 305.56 Decreased By ▼ -0.54 (-0.18%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.49 Decreased By ▼ -1.67 (-1.79%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.69 Decreased By ▼ -4.22 (-1.86%)
PRL 91.18 Decreased By ▼ -1.84 (-1.98%)
SNGP 90.70 Decreased By ▼ -1.14 (-1.24%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.64 Decreased By ▼ -0.16 (-2.05%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

سعودی عرب کا حوثیوں سے بڑھتا تناؤ، ثالث پاکستان پر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کا دباؤ

  • علاقائی کشیدگی بڑھنے پر پاکستان کو سعودی دفاعی معاہدوں اور ایران سے تنازع سے گریز کے درمیان مشکل توازن برقرار رکھنا ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے سعودی عرب کے دفاعی شراکت دار اور ایران کے لیے واشنگٹن کے بیک چینل کے طور پر بیک وقت کردار ادا کیا ہے، تاہم اس ہفتے یمن کے حوثی گروپ اور سعودی فورسز کے درمیان لڑائی نے اسلام آباد کے لیے دونوں کردار ایک ساتھ نبھانے کی صلاحیت کو مشکل امتحان میں ڈال دیا ہے۔

یہ لڑائی گزشتہ ماہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی اتحاد کا پہلا بڑا امتحان ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔

پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ حوثیوں کا خطرہ اسلام آباد کو جنگ میں زیادہ گہرائی تک کھینچ سکتا ہے۔ سعودی سرحد کے قریب پاکستانی فوجی بھی تعینات ہیں، جس سے ان کے براہ راست متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے پاکستان کی کمزور معیشت کو سہارا دینے کی کوششوں کا اہم حصہ ہیں اور اکثر ان کے ساتھ خلیجی سرمایہ کاری سے متعلق مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں۔ تاہم پاکستان آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستوں سے تیل و گیس کی درآمد پر بھی انحصار کرتا ہے، جنہیں ایران اور حوثی متاثر کرسکتے ہیں۔ اس لیے اسلام آباد ایران کو ناراض کرنے سے گریزاں ہے۔

ماضی میں ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی مسلح جھڑپوں تک پہنچ چکی ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر پاکستان اس بار کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد نے ایران کو حوثی اتحادیوں کو قابو میں رکھنے کا پیغام بھی دیا ہے، جبکہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وزیر خارجہ سے سفارتی کوششیں بحال کرنے کے طریقوں پر بات کی۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ فی الحال حوثیوں کے حملوں کے جواب میں کسی فوجی کارروائی پر غور نہیں کیا جا رہا۔

ایرانی حکام نے سرکاری طور پر پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا ہے، تاہم ایرانی ذرائع کے مطابق نجی طور پر تہران اسلام آباد کی ثالثی کی صلاحیتوں کے حوالے سے محتاط ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے ایسے پیغامات پہنچانے کی پوزیشن میں ہے جو مکمل طور پر غیر جانب دار ملک نہیں پہنچا سکتا۔ تاہم اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی بڑھی تو پاکستان کے لیے ثالث اور فریق کے درمیان فرق برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

پاکستان پہلے ہی سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور لڑاکا طیارے تعینات کرچکا ہے، جبکہ بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور مغربی صوبوں میں شورشوں کے باعث اس کی فوج پر بھی دباؤ ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستانی افواج پہلے ہی مصروف ہیں، اس لیے مزید خلیجی دفاعی وعدے کرنا اسلام آباد کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

Comments

200 حروف