موسم سرما میں توانائی بحران کا خطرہ منڈلانے لگا
- ایران امریکا جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان مارچ سے اگست کے دوران 15 کارگوز حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے
آر ایل این جی کی درآمدات بدستور مرکزِ نگاہ بنی ہوئی ہیں۔ جب پاکستان کو مکمل سپلائی دستیاب ہو تو چیلنج یہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے خاطر خواہ طلب پیدا کی جائے۔ تاہم اب جبکہ جنگ کے باعث سپلائی متاثر ہوئی ہے، آر ایل این جی طلب سے کم پڑ رہی ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب میں رات گئے شدید لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ اگر جنگ جاری رہتی ہے اور آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو آنے والے موسم سرما میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔
ایران امریکا جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان مارچ سے اگست کے دوران 15 کارگوز حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، جو اس کی معمول کی سپلائی کا صرف تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ ان میں سے 7 کارگوز اسپاٹ کارگوز تھے، جن کی قیمت 16 امریکی ڈالر سے 22 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان رہی، جبکہ باقی 8 کارگوز قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت فراہم کیے گئے، جن کی قیمت 7 امریکی ڈالر سے 14 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان رہی۔
حکومت نے حال ہی میں 25 سے 27 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی پیشکشیں مسترد کردی ہیں، کیونکہ ٹیکسز اور دیگر اخراجات شامل ہونے کے بعد صارفین کے لیے ان کی مؤثر لاگت 34 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ سکتی ہے۔ تحریر کے وقت پاکستان طویل مدتی معاہدوں کے تحت 2 کارگوز پر انحصار کررہا ہے جو آبنائے ہرمز کے دہانے پر انتظار کر رہے ہیں۔ اگر یہ گزرنے میں کامیاب ہوگئے تو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ بصورت دیگر شدید لوڈشیڈنگ جاری رہنے کا امکان ہے۔
اس وقت پاور ڈویژن سوئی ناردرن کے نیٹ ورک سے 250 سے 300 ایم ایم سی ایف ڈی کا مطالبہ کررہا ہے، جبکہ دستیاب سپلائی صرف تقریباً 100 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ اس میں سستے اور پرانے مقامی گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کے لیے مختص 120 سے 150 ایم ایم سی ایف ڈی شامل نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا فرق قلت کا سبب بن رہا ہے۔
اس سے قبل زیادہ ہائیڈرو پاور پیداوار نے اس فرق کو کم کرنے میں مدد دی تھی۔ تاہم بارشوں کے باعث زرعی پانی کی طلب میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں پانی کا اخراج کم ہوا اور ہائیڈرو پاور پیداوار بھی گھٹ گئی۔ حالیہ جوہری بجلی گھر کی بندش نے بھی دباؤ میں اضافہ کیا، اگرچہ اس مسئلے کو اب حل کرلیا گیا ہے۔
یہ غیر یقینی صورتحال ستمبر، اکتوبر اور نومبر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ایئر کنڈیشننگ کی طلب میں کمی آنے کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے اوقات کی مدت کم ہوسکتی ہے۔ تاہم موسم سرما میں صورتحال نمایاں طور پر بدتر ہوسکتی ہے۔
عالمی ایل این جی مارکیٹ پہلے ہی تیزی کا رجحان رکھتی ہے، کیونکہ ممالک موسم سرما کے لیے ذخائر بنا رہے ہیں۔ اسپاٹ قیمتیں اگست میں تقریباً 19 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر اب 27 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی ہیں، جو حکومت کی جانب سے کارگوز خریدنے میں ہچکچاہٹ کی وضاحت کرتی ہیں۔
اگر جنگ جاری رہتی ہے تو موسم سرما میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے باعث پاکستان اسپاٹ ایل این جی خریدنے سے گریز کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ایس این جی پی ایل کو محدود سپلائی بجلی، گھریلو اور کھاد کے شعبوں کے درمیان تقسیم کرنا ہوگی۔ امکان ہے کہ بجلی کے شعبے کو اس کی مختص مقامی گیس کی سپلائی کے علاوہ بہت کم یا شاید کچھ بھی نہ ملے۔ اس کے بعد بجلی کی کمی کو فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلنے والے مہنگے اور غیر مؤثر پاور پلانٹس کے ذریعے پورا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں موسم سرما کے بعض مہینوں میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ایک اور بڑی تشویش گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی ہے۔ منصوبہ ساز گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی صرف کھانے کے اوقات تک محدود کرنے پر غور کررہے ہیں، جبکہ پانی گرم کرنے اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے گیس بہت کم یا بالکل دستیاب نہیں ہوسکتی۔ موسم سرما میں بجلی اور گیس دونوں کی بیک وقت لوڈشیڈنگ کا امکان کسی طور بھی حوصلہ افزا نہیں ہے۔
یہ صورتحال، بالخصوص اس کے سیاسی مضمرات، رمضان کے دوران مزید مشکل ہوسکتی ہے، جو فروری میں شروع ہوگا۔
قلیل مدت میں پاکستان بہت کم اقدامات کرسکتا ہے، کیونکہ موجودہ اسپاٹ مارکیٹ قیمتوں پر آر ایل این جی خریدنے کی اس میں استطاعت نہیں ہے۔ قطر بظاہر سپلائی جزوی طور پر برقرار رکھنے پر آمادہ ہے، تاہم کارگوز کو آبنائے ہرمز سے گزارنا پاکستان کا بدستور مسئلہ ہے۔ علاقے میں تعینات ایرانی افواج بعض بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہی ہیں جبکہ دیگر کو روک رہی ہیں۔
کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ قطر سے کم سپلائی دراصل ایک نعمت ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ پاکستان کے پاس تمام 10 معاہدہ شدہ کارگوز ہر ماہ جذب کرنے کے لیے نہ تو کافی طلب ہے اور نہ ہی مالی استعداد۔ تاہم سپلائی مکمل طور پر بند ہوجانے کی صورت میں زندگی انتہائی مشکل ہوجائے گی۔
مثالی طور پر پاکستان کو ماہانہ 3 سے 5 کارگوز کی ضرورت ہے۔ اسے قطر کے ساتھ اپنے 2 طویل مدتی معاہدوں میں سے ایک سے دستبرداری کے لیے مذاکرات کی کوشش بھی کرنی چاہیے، جب قطری ٹیم آنے والے ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کرے۔
























Comments