جنگ بندی کی باریک شرائط
- تیل کی قیمتیں بدستور افراطِ زر، زری پالیسی اور سرکاری مالیات کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں
امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر شروع ہونے والے باہمی حملوں نے ایسی جنگ، جو پہلے ہی فوری اختتام کی ہر یقین دہانی کو جھٹلا چکی ہے، کو دوبارہ خطرناک کشیدگی کی جانب دھکیل دیا ہے۔
ایران اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ اگر واشنگٹن اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی پاسداری کرتا ہے تو وہ سفارت کاری کی طرف واپس جانے کے لیے تیار ہے، جبکہ نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات قریب آنے کے باعث ٹرمپ انتظامیہ اندرونی سیاسی دباؤ میں تیزی سے محدود ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
انتخابی نقطۂ نظر سے واشنگٹن کی ہچکچاہٹ قابلِ فہم ہوسکتی ہے، لیکن داخلی سیاسی کیلنڈر کے زیادہ موزوں ہونے تک فوجی محاذ آرائی کو جاری رہنے دینا ایسی جنگ کو سنبھالنے کا انتہائی خطرناک طریقہ ہے جس کا مرکز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔
اس کے اثرات پہلے ہی میدانِ جنگ سے کہیں آگے پھیل رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری خلل کے نتیجے میں پیدا ہونے والا افراطِ زر کا دباؤ عالمی سطح پر قرض لینے کی لاگت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے اور ترقی پذیر اور کم آمدنی والے ممالک کی جانب سے اپنے قرضوں کے بوجھ کو قابو میں رکھنے کے لیے حاصل کی گئی پیش رفت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
تیل کی قیمتیں بدستور افراطِ زر، زری پالیسی اور سرکاری مالیات کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں، جبکہ ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک نمایاں رسک پریمیم برقرار رکھا ہوا ہے۔ چنانچہ تنازع سے ہزاروں میل دور واقع ممالک بھی ایسے فیصلوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں۔
انسانی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔ ایران کے اندر امریکی حملوں میں شدت آنے کے باعث شہری ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جبکہ امریکی تنصیبات کے خلاف ایرانی جوابی کارروائی اور خلیجی ریاستوں اور بحری جہازوں کو متاثر کرنے والے حملوں نے خطرے کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔
جب فوجی حملے اور جوابی حملے اپنی الگ رفتار اختیار کرلیتے ہیں تو ہر جوابی کارروائی اگلے حملے کے لیے جواز فراہم کرتی ہے۔ ہر نئے مرحلے کے ساتھ غلط اندازے کا امکان بڑھتا جاتا ہے اور اس بات کا خطرہ بھی بڑھتا ہے کہ ایک بظاہر قابو میں رکھا گیا تصادم ایسی صورتحال اختیار کرلے جس کا اصل میں کسی فریق نے ارادہ بھی نہ کیا ہو۔
صورتحال کو خاص طور پر مایوس کن بنانے والی بات یہ ہے کہ حالیہ تعطل اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت میں جان بوجھ کر مبہم رکھے گئے الفاظ سے بھی الجھتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایران ہرمز سے متعلق شقوں کو آبنائے سے گزرنے پر اپنا اختیار تسلیم کیے جانے کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ واشنگٹن ایرانی نگرانی کے بغیر آزادانہ آمدورفت پر اصرار کرتا ہے۔ لڑائی روکنے کے لیے کیا گیا ایک معاہدہ اس طرح ایک انتہائی اہم سوال کو غیر حل شدہ چھوڑ گیا۔ اب یہی ابہام ایک اور تنازع کا ذریعہ بن چکا ہے۔
یہ صورتحال مذاکرات کی فوری بحالی کو ناگزیر بنانی چاہیے۔ ایران نے سفارتی راستے پر واپس آنے کے لیے آمادگی کا عندیہ دیا ہے اور اسلام آباد کے ذریعے قائم کیا گیا ثالثی کا نظام اب بھی دستیاب ہے۔
واشنگٹن کی ہچکچاہٹ، جو جزوی طور پر کانگریس کے انتخابات کے اتنے قریب ایران کے معاملے پر کمزور دکھائی دینے کے خدشات سے متاثر ہے، اس خطرے کو بڑھا رہی ہے کہ اندرونِ ملک سیاسی مصلحت بیرونِ ملک کشیدگی کی سمت کا تعین کرے۔ جنگیں صرف اس لیے محفوظ نہیں ہوجاتیں کہ سیاست دان مشکل سمجھوتوں کو انتخابات کے بعد تک مؤخر کرنا چاہتے ہیں۔
اس تحریر میں بارہا یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ جنگ ابتدا ہی سے ایک بے مقصد جنگ تھی، جسے اسرائیل کی ترغیب پر فوجی محاذ آرائی کی جانب دھکیلا گیا اور بعد ازاں واشنگٹن نے بھی اسے اختیار کرلیا، حالانکہ اس بات کی کوئی قابلِ یقین وضاحت موجود نہیں تھی کہ طاقت کا استعمال پائیدار سیاسی تصفیے تک کیسے پہنچائے گا۔
اب اس کے نتائج چھپانا مشکل ہوتا جارہا ہے: ہلاکتیں اور تباہی، آبنائے ہرمز کے ذریعے آمدورفت میں خلل، توانائی کی بلند قیمتیں، عالمی افراطِ زر اور قرضوں پر دباؤ، اور امریکی فوجی وابستگی، جبکہ کسی قابلِ قبول حتمی حل تک پہنچنے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔
کسی نہ کسی فریق کو پیچھے ہٹنا ہوگا۔ ایران بین الاقوامی بحری آمدورفت کو کسی متنازع شق کی اپنی تشریح کی بنیاد پر غیر معینہ مدت تک یرغمال نہیں بنا سکتا، اور امریکا بھی مذاکرات کے متبادل کے طور پر فوجی دباؤ کو غیر معینہ مدت تک استعمال نہیں کرسکتا، جبکہ یہ فرض کرے کہ کشیدگی قابلِ انتظام رہے گی۔
اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کو وضاحت یا ازسرِنو مذاکرات کی ضرورت ہوسکتی ہے، بالخصوص آبنائے ہرمز کے معاملے پر، لیکن یہی تو سفارت کاری کا مقصد ہے۔
متبادل راستہ یہ ہے کہ ہم حملے بہ حملہ اور ٹینکر بہ ٹینکر یہ دریافت کرتے رہیں کہ مبہم امن اور کھلی جنگ کتنی بھاری قیمت عائد کرسکتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments