ٹرمپ ایران اور سرمایہ کاری کے معاملے پر سیئول پر دباؤ ڈال رہے ہیں، جنوبی کوریا
- سرمایہ کاری منصوبے میں تجارتی افادیت اور قانونی تقاضوں سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھنے کے باعث پیش رفت تیز نہیں ہوسکی،چو ہیون
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی کا حکم بظاہر سیئول پر متعدد معاملات میں واشنگٹن کی حمایت کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کا حصہ ہے، جن میں ایران جنگ کے حوالے سے امریکی کوششیں اور سرمایہ کاری کا معاملہ شامل ہیں۔
چو ہیون نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پیغام میں جنوبی کوریا کی حکومت سے متعلق کئی زیر التوا معاملات پر دباؤ، شمالی کوریا کے لیے ایک پیغام اور ایران جنگ میں جاری تعطل ختم کرنے کے لیے امریکا کی کوشش شامل ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ممکنہ اختلاف گزشتہ سال طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت جنوبی کوریا کی امریکا میں 350 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی ہوسکتا ہے۔
سیئول نے تاحال سرمایہ کاری کے منصوبے کی تفصیلات کا اعلان نہیں کیا، تاہم وزیر خارجہ کے مطابق واشنگٹن نے ممکنہ منصوبوں کی تفصیلات پر مشتمل ایک تجویز جنوبی کوریا کو بھیجی ہے۔
چو ہیون کے مطابق سرمایہ کاری منصوبے میں تجارتی افادیت اور قانونی تقاضوں سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھنے کے باعث پیش رفت تیز نہیں ہوسکی۔
دریں اثنا، جنوبی کوریا اور امریکا نے بدھ کو اعلان کیا کہ سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کا دورانیہ 11 روز سے کم کرکے 5 روز کردیا جائے گا اور بعض فیلڈ ٹریننگ بھی محدود کی جائے گی۔
جنوبی کوریا کے وزیرچنگ ڈونگ یونگ نے کہا کہ ان کے خیال میں مشقوں میں کمی کے ذریعے ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے نئی ملاقات کی راہ ہموار کرنے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
























Comments