جنوبی کوریا کا مؤقف ہے کہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ٹھوس پیش رفت کو ترجیح دی جانی چاہیے
صدر پربوو سبیانتو نے کہا، "انڈونیشیا کو ایسا ملک سمجھا جاتا ہے جو دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا خواہاں نہیں، اور ہم اس اصول پر مضبوطی سے قائم ہیں۔"
نام نہاد سویلین کنٹرول لائن اس وقت ملٹری ڈیمارکیشن لائن سے تقریباً 10 کلومیٹر (6.2 میل) جنوب میں واقع ہے، جو 1950-53 کی کوریائی جنگ کے خاتمے پر قائم کی گئی تھی
تجزیہ کار ہانگ من کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن ممکنہ طور پر پیر اور منگل کو ہونے والے شی جن پنگ کے دورے سے قبل ملک کی عسکری صلاحیتوں کی نمائش کرنا چاہتے ہیں
کم جونگ اُن نے ایک اور مقام پر 8 ہزار 700 ٹن وزنی جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز کی تعمیر کا بھی جائزہ لیا ، جو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے
یہ میزائل تجربہ گزشتہ دو ہفتوں میں ہونے والے میزائل تجربات کے بعد اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیونگ یانگ کو مذاکرات کی تازہ پیشکش کے فوراً بعد کیا گیا