آبنائے ہرمز پر ایران کا سخت مؤقف، ٹرمپ کا امریکیوں کو بلند پٹرول قیمتیں قبول کرنے کا مشورہ
- آبنائے صرف ایران کے حکم پر کھولی اور بند کی جائے گی، نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی
ایران نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ شکست تسلیم کرے جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو انتہائی بدکردار قرار دیا اور امریکیوں سے کہا کہ وہ جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی بلند قیمتوں کے لیے تیار رہیں۔
امن مذاکرات کی جانب پیش رفت اور تیل بردار بحری جہازوں کی اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے آمدورفت بدستور معطل رہی جبکہ اس بات کے بھی کوئی آثار نظر نہیں آئے کہ جنگ میں مصروف فریق اس تنازع کے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو کیا تھا۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے ہفتے کی صبح ایکس پر جاری اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ آبنائے صرف ایران کے حکم پر کھولی اور بند کی جائے گی اور جب تک آپ شکست کی حقیقت تسلیم نہیں کرتے اور خیالی تصورات میں مبتلا رہتے ہیں ایران اس ناکہ بندی کو نافذ کرتا رہے گا۔
امریکا میں پٹرول کی قیمت سالانہ 29 فیصد بڑھ گئی، ایران بھی متاثر
وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے ہفتے کو شائع ہونے والے ایرانی خبر رساں ادارے شہرآرا نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے واشنگٹن کو ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔
ٹرمپ نے امریکیوں پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ تنازع جاری رہنے تک وہ پٹرول کی قدرے زیادہ قیمتیں قبول کریں۔
انہوں نے جمعہ کو نیویارک میں ایک سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی گاڑی کے پٹرول کے لیے تھوڑے سے زیادہ پیسے ادا کرنا اس بات کو یقینی بنانے کی قیمت کے مقابلے میں قابلِ قبول ہے کہ ایک انتہائی بدکار ملک جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ یہ ان وجوہات میں سے ایک ہے جنہیں صدر نے جنگ کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔
افراطِ زر اور ووٹرز میں مایوسی کا باعث بننے والے اس رجحان کے دوران، امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق جمعہ کو امریکا میں ایک گیلن پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.08 ڈالر رہی جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔
ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ نے دوبارہ انتخابی مہم کے دوران توانائی کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کیا تھا جبکہ ڈیموکریٹس نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات میں جنگ کے اثرات کو انتخابی مسئلہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
جمعہ کو خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں ایک ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا۔ بینچ مارک برینٹ کے مستقبل کے سودوں میں ہفتہ وار بنیاد پر 6.0 فیصد اضافے کا امکان تھا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ میں 5.4 فیصد اضافے کی توقع تھی۔
غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر نہ کسی ٹوئٹ کے ذریعے قبضہ کیا جا سکتا ہے، نہ طیارہ بردار بحری جہاز کے ذریعے، نہ حکم جاری کرکے اور نہ ہی انتخابی تقریر کے ذریعے۔
تاہم ایران کے سخت لہجے کے باوجود وہاں بھی جنگ کے معاشی اثرات کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹیلی وژن پر گفتگو کرتے ہوئے ایران میں بلند افراطِ زر کا ذمہ دار ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اور ایران کی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کو قرار دیا۔



















Comments