BR100 Increased By (0.18%)
BR30 Decreased By (-0.11%)
KSE100 Increased By (0.18%)
KSE30 Increased By (0.14%)
BAFL 58.00 Decreased By ▼ -1.73 (-2.9%)
BIPL 27.10 Increased By ▲ 0.10 (0.37%)
BOP 34.15 Increased By ▲ 0.04 (0.12%)
CNERGY 12.80 Decreased By ▼ -0.04 (-0.31%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.15 (0.82%)
DGKC 213.30 Increased By ▲ 0.28 (0.13%)
FABL 99.77 Increased By ▲ 0.78 (0.79%)
FCCL 57.31 Decreased By ▼ -0.35 (-0.61%)
FFL 16.27 Increased By ▲ 0.07 (0.43%)
GGL 23.99 Increased By ▲ 0.19 (0.8%)
HBL 336.00 Increased By ▲ 2.29 (0.69%)
HUBC 214.03 Increased By ▲ 2.60 (1.23%)
HUMNL 10.60 Increased By ▲ 0.08 (0.76%)
KEL 7.45 Decreased By ▼ -0.03 (-0.4%)
LOTCHEM 27.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.32%)
MLCF 100.07 Decreased By ▼ -0.58 (-0.58%)
OGDC 318.99 Decreased By ▼ -1.30 (-0.41%)
PAEL 43.18 Increased By ▲ 0.06 (0.14%)
PIBTL 16.69 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
PIOC 272.00 Increased By ▲ 0.27 (0.1%)
PPL 228.76 Decreased By ▼ -0.08 (-0.03%)
PRL 71.50 Increased By ▲ 0.48 (0.68%)
SNGP 102.70 Increased By ▲ 0.48 (0.47%)
SSGC 26.70 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.04 (0.46%)
TPLP 15.21 Increased By ▲ 0.10 (0.66%)
TRG 59.87 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
UNITY 12.22 Increased By ▲ 0.17 (1.41%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
پاکستان

گزشتہ مالی سال وفاقی حکومت کے قرضوں میں 5.7 کھرب روپے کا اضافہ

  • یہ اضافہ مالی خسارے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت کی بڑھتی ہوئی قرض گیری کی عکاسی کرتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

گزشتہ مالی سال (مالی سال26) کے دوران پاکستان کے وفاقی حکومت کے قرضوں کے مجموعی حجم میں 5.7 کھرب روپے کا اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ملکی اور غیرملکی ذرائع سے بڑے پیمانے پر قرضوں کا حصول تھا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کے مجموعی قرضوں، جن میں اندرونی اور بیرونی واجبات شامل ہیں، میں 7.4 فیصد یا 5.754 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کے بعد وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے جون 2026 کے اختتام پر بڑھ کر 83.642 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جو یکم جولائی 2025 کو مالی سال کے آغاز پر 77.888 کھرب روپے تھے۔

یہ اضافہ مالی خسارے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت کی بڑھتی ہوئی قرض گیری کی عکاسی کرتا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اندرونی اور بیرونی دونوں ذرائع سے لیے گئے قرضوں نے مجموعی قرضوں میں اضافے میں کردار ادا کیا، تاہم اندرونی قرضوں میں اضافہ نسبتاً کہیں زیادہ نمایاں رہا۔

مالی سال 2025-26 کے دوران اندرونی قرضوں کا حجم 9 فیصد یا 4.969 کھرب روپے بڑھ کر جون 2026 کے اختتام پر 59.94 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔ اسی عرصے میں بیرونی قرضوں میں 3 فیصد یا 471 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کا حجم 24.2 کھرب روپے ہو گیا۔

اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے اختتام تک 13 کھرب روپے کا نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف حاصل کر لیا، تاہم یہ محصولات حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی رہیں، جس کے باعث حکومت کو مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے مزید قرض لینا پڑا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق بنیادی مالیاتی توازن (پرائمری بیلنس) مسلسل تیسرے سال بھی سرپلس میں رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ مجموعی مالی خسارہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہا۔

آئندہ مالی سال (مالی سال 27) میں بھی مالیاتی استحکام کی پالیسی جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے تحت بنیادی سرپلس کا ہدف مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2 فیصد جبکہ مجموعی مالی خسارے کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

تاہم اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ان اہداف کے حصول کے لیے غیر یقینی ملکی اور عالمی معاشی ماحول میں محصولات بڑھانے اور اخراجات پر سخت کنٹرول برقرار رکھنا ناگزیر ہوگا۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ایک بار پھر مالیاتی اصلاحات، بالخصوص ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور سرکاری اداروں (پی ایس ایز) کے نقصانات کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ بلند اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف