حوثیوں کے سعودی ٹینکر پر حملے کے دعوے کے بعد خلیجی بحری ٹریفک میں کمی
- حوثیوں نے گزشتہ ماہ سے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے
شپنگ ڈیٹا کے مطابق خلیج کے اہم بحری راستوں، آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں بدھ کو گزشتہ روز کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
کیپلر کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے صرف دو بحری جہاز گزرے جن میں ایک پاناما کے پرچم والا کوئلے سے لدا جہاز آبنائے میں داخل ہوا جب کہ مارشل آئی لینڈز کے پرچم والا ایک مال بردار جہاز وہاں سے باہر نکلا۔ ایک روز قبل 8 جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزر کیا تھا۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے سے قبل عام طور پر روزانہ تقریباً 130 سے 140 بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرتے تھے۔
کیپلر کے ڈیٹا کے مطابق آبنائے باب المندب سے بدھ کو صرف ایک مال بردار جہاز گزرا جو بہاماس کے پرچم والا ڈرائی بلک کیریئر تھا جب کہ ایک روز قبل 20 جہازوں نے آبنائے عبور کیا تھا۔
یمن کے ایران نواز حوثیوں نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع کے قریب ایک سعودی آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا جبکہ خلیج عدن میں بھی ایک سعودی آئل ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا۔
سعودی عرب کی جانب سے دونوں واقعات کی تاحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔
حوثیوں نے گزشتہ ماہ سے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ اقدام یمن کے خلاف سعودی محاصرے کے ردعمل میں کیا گیا تاہم ریاض نے اس الزام کی تردید کی ہے۔























Comments