مہاجر بچوں کی بڑھتی آمد کے بعد سیوٹا نے 'ناقابلِ برداشت' صورتحال سے خبردار کر دیا
- 84 ہزار آبادی والے ہسپانوی علاقے میں تنہا آنے والے کم عمر مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے 2 کروڑ 50 لاکھ یورو کی ہنگامی امداد کا اعلان
اسپین کے شمالی افریقی خودمختار شہر سیوٹا کے سربراہ نے بدھ کو کہا کہ گزشتہ ہفتے مہاجرین کی غیر معمولی آمد کے بعد وہاں موجود مہاجر بچوں کی تعداد اب ”ناقابلِ برداشت“ حد تک پہنچ چکی ہے، اور انہوں نے مرکزی حکومت سے فوری امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
اسپین کے مطابق 30 جولائی سے 72 ہزار مہاجرین سیوٹا میں داخل ہوئے تھے، جن میں سے 70 ہزار کو واپس ہمسایہ ملک مراکش بھیج دیا گیا ہے۔ مہاجرین کی اس غیر معمولی آمد نے یورپی یونین کے ان رکن ممالک کو بھی برہم کر دیا ہے جو غیر قانونی ہجرت کے خلاف مزید سخت پالیسیوں کے حامی ہیں۔
تاہم سیوٹا میں اب بھی موجود تقریباً 2,500 مہاجرین میں سیکڑوں ایسے نابالغ بچے شامل ہیں جو کسی سرپرست کے بغیر آئے ہیں اور خوراک، پینے کے پانی، رہائش اور صفائی جیسی بنیادی سہولتوں کی شدید کمی کے باعث انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
سیوٹا کے سربراہ خوان جیسس ویواس نے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی وی ای کو بتایا کہ مقامی انتظامیہ اس وقت 1,100 نابالغ مہاجرین کی دیکھ بھال کر رہی ہے، جبکہ اس کی گنجائش صرف 90 بچوں کی ہے۔
ویواس نے کہا، ”یہ صورتحال مکمل طور پر ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے،“ اور خبردار کیا کہ استقبالی مراکز اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ بھر جانے کے باعث امنِ عامہ اور عوامی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
سیوٹا میں ہسپانوی حکومت کے اعلیٰ نمائندے میگوئل اینخل پیریز نے بھی بدھ کو اعتراف کیا کہ ”اب بھی نابالغ بچے ہماری سڑکوں پر موجود ہیں، اور یہی ہماری اولین ترجیح اور شدید تشویش کا باعث ہے۔“
ویواس نے کہا، ”ہم مرکزی حکومت کے ذریعے اسپین کے دیگر علاقوں سے مدد اور تعاون کے طلبگار ہیں،“ اور بحران سے نمٹنے میں بائیں بازو کی حکومت کے ردعمل کو ایک بار پھر ”تاخیر کا شکار اور واضح طور پر ناکافی“ قرار دیا۔
فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق سیوٹا میں اب بھی موجود مہاجرین میں تقریباً ایک ہزار ایسے نابالغ بچے شامل ہیں جو مناسب تحفظ سے محروم ہیں۔
موجودہ قانونی ضوابط کے تحت ان بچوں کو اسپین کے دیگر علاقوں میں منتقل کرنے کی کوششوں کو قدامت پسند پاپولر پارٹی (پی پی) اور امیگریشن مخالف انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب سوشلسٹ نائب وزیراعظم کارلوس کوئرپو نے سرکاری ٹیلی ویژن پر زور دیا کہ پاپولر پارٹی اور اس کی علاقائی حکومتوں کو بھی دوسروں کی طرح قانون پر عمل کرنا ہوگا۔
ادھر وزارتِ نوجوانان و اطفال نے منگل کو 2 کروڑ 50 لاکھ یورو (2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر) کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا، تاکہ 84 ہزار آبادی والے اس چھوٹے سے علاقے کو نابالغ مہاجرین کی دیکھ بھال میں مدد فراہم کی جا سکے۔
وزارت کے مطابق بغیر سرپرست آنے والے نابالغ مہاجرین، خصوصاً لڑکیوں، کی رہائش کے لیے دو اسکولوں کو عارضی استقبالی مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
























Comments