تین ڈسکوز کی نجکاری، نجکاری کمیشن کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کے فقدان کا سامنا
- پالیسی میں عدم تسلسل اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد متزلزل ہے
حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے جاری مہم کو پالیسی میں عدم تسلسل اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کے چیلنج کا سامنا ہے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نجکاری کمیشن (پی سی) کو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے میں اعتماد کے فقدان کا سامنا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی سربراہی میں نجکاری کمیشن کے وفد نے پہلے مرحلے میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی نجکاری کے لیے ترکیہ، سعودی عرب اور چین میں روڈ شوز منعقد کیے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تقریباً آٹھ شہروں میں بھی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق نجکاری کمیشن اور اس کے مالیاتی مشیر نے 30 سے زائد مقامی کاروباری اداروں اور 23 سے زائد بڑے بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں، جبکہ صرف ترکیہ میں 11 بڑے کاروباری گروپوں کو علیحدہ علیحدہ بریفنگ دی گئی۔ وفد نے ترکیہ کی انرجی مارکیٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور وزارت توانائی سے بھی ملاقاتیں کیں، جبکہ سعودی عرب اور چین میں بھی متعدد کاروباری گروپوں سے رابطے کیے گئے۔
سرمایہ کاروں نے نجکاری کے بعد کے نظام، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور پالیسی میں بار بار تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکردگی پر مبنی مراعات، ڈسکوز کے اثاثوں کا مؤثر استعمال اور صارفین کو اس کے فوائد کی منتقلی سے بجلی کے نرخ کم کیے جا سکتے ہیں۔ مارکیٹ کو مزید آزاد بنانے سے متعلق مختلف تجاویز بھی زیر غور آئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی، لاہور اور فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے کم از کم پانچ مقامی کنسورشیم دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں، تاہم صنعت کار میاں ادریس کی حالیہ گرفتاری نے خصوصاً فیصل آباد کے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ پی آئی اے سے وابستہ گروپس، ٹیکسٹائل شعبے کے سرمایہ کار اور ایک سابق وفاقی وزیر بھی ڈسکوز خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
محمد علی نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ حکومت ریگولیٹری اصلاحات، آپریشنل بہتری، بجلی کی خرید و فروخت کے نئے ماڈل اور خود بجلی پیدا کرنے کی اجازت کے ذریعے سرمایہ کاروں کو 18 سے 20 فیصد تک منافع فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بنیادی منافع 14 سے 15 فیصد ہوگا، جسے بہتر کارکردگی کے ذریعے بڑھایا جا سکے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت روپے پر مبنی ٹیرف برقرار رکھے گی اور مقامی سرمایہ کاروں نے ڈالر پر مبنی ٹیرف کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی صارفین کی ڈسکوز سے منتقلی کے رجحان کے باعث ڈالر میں منافع کی ضمانت قابل عمل نہیں۔
سرمایہ کاروں نے نیپرا کو مزید مضبوط بنانے، اس کے صوابدیدی اختیارات محدود کرنے، خود بجلی پیدا کرنے کی اجازت دینے، حکومت کے کردار میں کمی اور بجلی کی خرید و فروخت میں مسابقت بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کے لیے دلچسپی کے اظہار (ای او آئیز) جمع کرانے کی آخری تاریخیں بالترتیب 7 جولائی، 7 اگست اور 7 ستمبر 2026 ہیں، جبکہ بولیوں کا عمل اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2026 میں مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ حکومت کا ہدف مالی سال 2026-27 کے دوران تین ڈسکوز کی نجکاری اور حیسکو و سیپکو کو طویل المدتی کنسیشن معاہدوں کے تحت پیش کرنا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments